اور مسلمان لوگ جیسا کہ میاں شمس الدین سکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کے اشتہار سے سمجھا جاتا ہے جس کو اُنہوں نے ماہ حال یعنی اپریل ۱۹۰۲ء میں شایع کیا ہے اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام فرقے مسلمانوں کے شیعہ سُنّی مقلّد اور غیر مقلّد میدانوں میں جا کر اپنے اپنے طریقہ مذہب میں دُعائیں کریں اور ایک ہی تاریخ میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھیں تو بس یہ ایسا نسخہ ہے کہ معاً اس سے طاعون دُور ہو جائے گی مگر اکٹھے کیونکر ہو ں اِس کی کوئی تدبیر نہیں بتلائی گئی۔ظاہر ہے کہ فرقہ وہابیہ کے مذہب کے رُو سے تو بغیر فاتحہ خوانی کے نماز درست ہی نہیں پس اس صورت میں اُن کے ساتھ حنفیوں کی نماز کیونکر ہو سکتی ہے۔ کیا باہم فساد نہیں ہوگا۔ ما سوا اس کے اس اشتہار کے لکھنے والے نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہندو اِس مرض کے دفع کے لئے کیا کریں۔ کیا اُن کو اجازت ہے یا نہیں کہ وہ بھی اس وقت اپنے بتوں سے مدد مانگیں ۔اور عیسائی کس طریق کو اختیارکریں۔ اور جو فرقے حضرت حسین یا علی رضی اﷲ عنہ کو قاضی الحاجات سمجھتے ہیں اور محرم * میں تعزیوں پر ہزاروں درخواستیں مرادوں کے لئے گزارا کرتے ہیں اور یا جو مسلمان سیّدعبدالقادر جیلانی کی پوجا کرتے ہیں یا جو شاہ مدار یا سخی سرور کو پوجتے ہیں وہ کیا کریں اور کیا اب یہ تمام فرقے دُعائیں نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فرقہ خوفزدہ ہو کر اپنے اپنے معبود کو پکار رہا ہے۔ شیعوں کے محلوں کی سیر کروکوئی ایسا گھر نہیں ہو گا جس کے دروازہ پر یہ شعر چسپاں نہیں ہو گا:۔ لِیْ خَمْسَۃٌ اُطْفِیْ بھَا حَرَّ الْوَبَاءِ الحَاطِمَہ اَلْمُصْطَفٰی وَالْمُرْتَضٰی وَ ابْنَاھُمَا وَالْفَاطِمَہ میرؔ ے اُستاد ایک بزرگ شیعہ تھے۔ اُن کا مقولہ تھا کہ وباء کا علاج فقط تَولَّا اور تَبَرّٰی ہے۔ * حاشیہ یہ محرم کا مہینہ بڑا مبارک مہینہ ہے ۔ ترمذی میں اس کی فضیلت کی نسبت آنحضر ت صلی اﷲ علیہ وسلم سے یہ حدیث لکھی ہے کہ فیہ یوم تاب اﷲ فیہ علٰی قومٍ ویتوب فیہ علٰی قوم اٰ خرین یعنی محرم میں ایک ایسا دن ہے جس میں خدا نے گزشتہ زمانہ میں ایک قوم کو بلا سے نجات دی تھی اور مقدر ہے کہ ایسا ہی اسی مہینہ میں ایک بلا سے ایک اور قوم کو نجات ملے گی ۔ کیا تعجب کہ اس بلا سے طاعون مراد ہو اور خدا کے مامور کی اطاعت کر کے وہ بلا مُلک سے جاتی رہے۔ منہ