نہ آ ؔ نے دیں۔ اور اگر کوئی ایسے گاؤں یا شہر کا اس مرض سے بیمار ہو جائے تو اُس کو باہر نکالیں اور اُس کے اختلاط سے پرہیز کریں۔ پس طاعون کا علاج اُن کے نزدیک جو کچھ ہے یہی ہے ۔ یہ تو دانشمند ڈاکٹروں اور طبیبوں کی رائے ہے جس کو ہم نہ تو ایک کافی اور مستقل علاج کے رنگ میں سمجھتے ہیں اور نہ محض بے فائدہ قرار دیتے ہیں۔ کافی اور مستقل علاج اس لئے نہیں سمجھتے کہ تجربہ بتلا رہا ہے کہ بعض لوگ باہر نکلنے سے بھی مَرے ہیں اور بعض صفائی کا التزام رکھتے رکھتے بھی اِس دُنیا سے رخصت ہو گئے۔ اور بعض نے بڑی اُمید سے ٹیکا لگوایا اور پھر قبر میں جا پڑے۔ پس کون کہہ سکتا ہے یا کون ہمیں تسلی دے سکتا ہے کہ یہ تمام تدبیریں کافی علاج ہیں بلکہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ گو یہ تمام طریقے کسی حد تک مفید ہیں لیکن یہ ایسی تدبیر نہیں ہے جس کو طاعون کو مُلک سے دفع کرنے کے لئے پوری کامیابی کہہ سکیں۔ اِسی طرح یہ تدبیریں محض بے فائدہ بھی نہیں ہیں کیونکہ جہاں جہاں خدا کی مرضی ہے وہاں وہاں اِس کا فائدہ بھی محسوس ہو رہا ہے مگر وہ فائدہ کچھ بہت خوشی کے لائق نہیں مثلاً گو سچ ہے کہ اگر مثلاً سو آدمی نے ٹیکا لگوایا ہے اور دوسرے اسی قدر لوگوں نے ٹیکا نہیں لگوایا ہے تو جنہوں نے ٹیکا نہیں لگوایا اُن میں موتیں زیادہ پائی گئیں اور ٹیکا والوں میں کم لیکن چونکہ ٹیکے کا اثر غایت کار دو۲ مہینے یا تین مہینے تک ہے، اس لئے ٹیکے والا بھی بار بار خطرہ میں پڑے گا جب تک اِس دُنیا سے رخصت نہ ہو جائے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ جو لوگ ٹیکا نہیں لگواتے وہ ایک ایسے مرکب پر سوار ہیں کہ جو مثلاً چوبیس گھنٹہ تک اُن کو دارالفناء تک پہنچا سکتا ہے۔ اور جو لوگ ٹیکا لگواتے ہیں وہ گویا ایسے آہستہ رو ٹٹوپر چل رہے ہیں کہ جو چوبیس دِن تک اُسی مقام میں پہنچا دے گا۔ بہر ؔ حال یہ تمام طریقے جو ڈاکٹری طور پر اختیار کئے گئے ہیں نہ تو کافی اور پورے تسلی بخش ہیں اور نہ محض نکمّے اور بے فائدہ ہیں اور چونکہ طاعون جلد جلد مُلک کو کھاتی جاتی ہے اِس لئے بنی نوع کی ہمدردی اِسی میں ہے کہ کسی اور طریق کو سوچا جائے جو اِس تباہی سے بچا سکے۔