نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
طاعون
چو آمد از خدا طاعوں بہ بیں از چشم اکرا مش
تو خود ملعونی اے فاسق چراملعوں نہی نامش
زمانِ توبہ و وقتِ صلاح و ترک خبث است ایں
کسے کو بر بدی چسپد نہ بینم نیک انجامش
اس ہولناک مرض کے بارے میں جو مُلک میں پھیلتی جاتی ہے لوگوں کی مختلف رائیں ہیں۔ ڈاکٹر لوگ جن کے خیالات فقط جسمانی تدابیرتک محدود ہیں اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ زمین میں محض قدرتی اسباب سے ایسے کیڑے پَیدا ہو گئے ہیں کہ اوّل چوہوں پر اپنا بد اثر پہنچاتے ہیں*۔ اور پھر انسانوں میں سلسلہ موت کا جاری ہو جاتا ہے۔ اور مذہبی خیالات سے اِس بیماری کو کچھ تعلق نہیں بلکہ چاہیئ کہ اپنے گھروں اور نالیوں کو ہر ایک قسم کی گندگی اور عفونت سے بچاویں اور صاف رکھیں اور فنائل وغیرہ کے ساتھ پاک کرتے رہیں اور مکانوں کو آگ سے گرم رکھیں اور ایسا بناویں جن میں ہوا بھی پہنچ سکے اور روشنی بھی۔ اور کسی مکان میں اس قدر لوگ نہ رہیں کہ اُن کے منہ کی بھاپ اور پاخانہ پیشاب وغیرہ سے کیڑے بکثرت پیدا ہو جائیں۔ اور ردّی غذائیں نہ کھائیں۔ اور سب سے بہتر علاج یہ ہے کہ ٹیکا کرا لیں۔ اور اگر مکانوں میں چوہے مُردہ پاویں تو اُن مکانوں کو چھوڑ دیں۔ اور بہتر ہے کہ باہر کھلے میدانوں میں رہیں اور میلے کچیلے کپڑوں سے پرہیز کر یں۔ اور اگر کوئی شخص کسی متأثر اور آلودہ مکان سے اُن کے شہریا گاؤں میں آوے تو اُس کو اندر
* حاشیہ ۔ طبابت کے قواعد کے رُو سے طاعون کی بیماری کی شناخت کے لئے ضروری ہے کہ جس بد قسمت گاؤں یا شہر میں یا اُس کے کسی حصہ میں یہ مہلک بیماری پھوٹ پڑے اُس میں کئی روزپہلے اُس سے مَرے ہوئے چوہے پائے جائیں۔ پس اگر مثلاً محض تپ سے کسی گاؤں میں چند موت کی وارداتیں ہو جائیں اور چوہے مرتے نہ دیکھے جائیں تو وہ طاعون نہیں ہے بلکہ محرقہ کی قسم کا ایک مہلک تپ ہے۔ منہ