قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمینِ حجاز میں پیدا ہوا تھا اور تمام دنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر ۔ خدا اُس کی برکتوں سے تمام زمین کو متمتع کرے۔ آمین خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سُنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اُس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اُس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حَصُور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصّے اِس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔ اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنّا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور اُن کے خاص مُریدوں میں داخل ہوئے تھے۔ اور یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو ببداہت ثابت کرتی ہے کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ یحییٰ نے بھی کسی کے ہاتھ پر توبہ کی تھی۔ پس اُس کا معصوم ہونا بدیہی امر ہے اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسیٰ اور اُس کی ماں مسِ شیطان سے پاک ہیں اس کے معنے نادان لوگ نہیں سمجھتے۔ اصل بات یہ ہے کہ پلیدیہودیوں نے حضرت عیسیٰ اور اُن کی ماں پر سخت ناپاک الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت نعوذ باﷲ شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے۔ سو اِس افترا کا ردّ ضروری تھا۔ پس اس حدیث کے اِس سے زیادہ کوئی معنے نہیں کہ یہ پلید الزام جوحضرت عیسیٰ اور اُن کی ماں پر لگائے گئے ہیں یہ صحیح نہیں ہے بلکہ ان معنوں کر کے وہ مسِ شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نبی کو کبھی پیش نہیں آیا۔ منہ