سچے منجی کو ہر ایک شخص چاہتا ہے اور اُس سے محبت کرتا ہے۔ پس بلا شبہ اب دِن آگئے ہیں کہ ثابت ہو کہ سچا منجی کون ہے۔ ہم مسیح ابن مریم کو بے شک ایک راستباز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر * لوگوں سے البتہ اچھا تھا۔ واﷲ اعلم۔ مگر وہ حقیقی منجی نہیں تھا۔ یہ اُس پر تہمت ہے کہ وہ حقیقی منجی تھا۔ حقیقی منجی ہمیشہ اور * یاد رہے کہ یہ جو ہم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا بیان محض نیک ظنّی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے وقت میں خدا تعالیٰ کی زمین پر بعض راستباز اپنی را ستبازی اور تعلق باﷲ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اُن کی نسبت فرمایاؔ ہے 3 ۱؂ جس کے یہ معنی ہیں کہ اُس زمانہ کے مقربوں میں سے یہ بھی ایک تھے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ سب مقربوں سے بڑھ کر تھے بلکہ اس بات کا امکان نکلتا ہے کہ بعض مقرب اُن کے زمانہ کے اُن سے بہتر تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آئے تھے اور دُوسرے ملکوں اور قوموں سے اُن کو کچھ تعلق نہ تھا۔ پس ممکن بلکہ قریب قیاس ہے کہ بعض انبیاء جو 33۲؂میں داخل ہیں وہ اُن سے بہتر اور افضل ہوں گے۔ اور جیسا کہ حضرت موسیٰ کے مقابل پر آخر ایک انسان نِکل آیا جس کی نسبت خدا نے 3 ۳؂ فرمایا تو پھر حضرت عیسیٰ کی نسبت جو موسیٰ سے کمتر اور اُس کی شریعت کے پَیرو تھے اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے اور ختنہ اور مسائل فقہ اور وراثت اور حرمت خنزیر وغیرہ میں حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کے تابع تھے کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بالاطلاق اپنے وقت کے تمام راستبازوں سے بڑھ کر تھے۔ جن لوگوں نے اُن کو خدا بنایا ہے جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ نخواہ خدائی صفات اُنہیں دی ہیں جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر اُن کو اُوپر اُٹھاتے اُٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پَیدا کرنے والا قرار دیں تو اُن کو اختیار ہے۔