تنبیہ
جس پیغام کو ہم اِس وقت اپنے عزیزانِ ملک کے پاس اِس رسالہ کے ذریعہ سے پہنچانا چاہتے ہیں اُس کی نسبت ہمیں انبیاء علیہم السلام کے قدیم تجربہ کے رُو سے یہ ثابت ہے کہ سرِدست اِس ہماری ہمدردی کا قدر یہی ہو گا کہ پھر دوبارہ ہم اسلام کے مولویوں اور عیسائی مذہب کے پادریوں اور ہندو مذہب کے پنڈتوں سے گالیاں سُنیں اور طرح طرح کے رنج دہ خطابوں سے یاد کئے جاویں اور ہمیں پہلے سے خوب معلوم ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔ لیکن ہم نے نوع انسان کی ہمدردی کو اِس بات سے مقدم رکھا ہے۔ کہ عام بد زبانی سے ہم ستائے جائیں کیونکہ باوجود اس کے یہ بھی احتمال ہے کہ ان صد ہا اور ہزار ہا گالیاں دینے والوں میں سے بعض ایسے بھی پیدا ہوجائیں کہ ایسے وقت میں کہ جب آسمان پر سے ایک آگ برس رہی ہے بلکہ اگلے جاڑے میں تو اور بھی زیادہ برسنے کی توقع ہے۔ اِس رسالہ کو غور سے پڑھیں اور اِس اپنے ناصح شفیق پر جلد ناراض نہ ہوں۔ اور جس نسخہ کو وہ پیش کرتا ہے اُس کو آزما لیں۔ کیونکہ اس ہمدردی کے صلہ میں کوئی اُجرت یا پاداش اُن سے طلب نہیں کی گئی۔ محض سچے خلوص اور نیک نیتی سے انسانوں کی جان چھوڑانے کے لئے ایک آزمودہ اَور پاک تجویز پیش کی گئی ہے۔ پس جس حالت میں لوگ بیماریوں میں علاج کی غرض سے بعض جانوروں کا پیشاب بھی پی لیتے ہیں اور بہت سی پلید چیزوں کو استعمال کر لیتے ہیں۔ تو اِس صُورت میں اُن کا کیا حرج ہے کہ اپنی جانؔ چھوڑانے کے لئے اِس پاک علاج کو اپنے لئے اختیار کر لیں اَور اگر وہ نہیں کریں گے تب بھی بہر حال اِس مقابلہ کے وقت میں ایک دِن اُن کو معلوم ہو گا کہ ان تمام مذاہب میں سے کون سا ایسا مذہب ہے جس کا شفاعت کرنا اور منجی کے بزرگ لفظ کا مصداق ہونا ثابت ہو سکتا ہے۔