تھا ایک اس غرض سے کہ تا حضرت عیسیٰ کا زندہ آسمان کی طرف اُٹھائے جانا اُن کی ایک خصوصیت ٹھہرکر منجرالی الشرک نہ ہو جائے اور دوسرے اس لئے کہ تا اس بارے میں سنت اللہ معلوم ہو کر ثبوت اس امر کا پایۂ کمال کو پہنچ جائے۔ سو جہاں تک ہمیں علم ہے خدا اور رسول نے اس کی نظیر پیش نہیں کی۔ اگر گولڑوی صاحب کو کشف کے ذریعہ سے اس کی نظیر معلوم ہو گئی ہے تو پھر اس کو پیش کرنا چاہئے۔ غرض حضرت مسیح علیہ السلام کی موت قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ اور اکابر ائمہ اربعہ اور اہل کشوف کے کشوف سے ثابت ہے اور اس کے سوا اور بھی دلائل ہیں۔ جیسا کہ مرہم عیسیٰ جو ہزار طبیب سے زیادہ اس کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے ہیں جن کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مرہم جو زخموں اور خون جاری کے لئے نہایت مفید ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تیار کی گئی تھی اور واقعات سے ثابت ہے کہ نبوت کے زمانہ میں صرف ایک ہی صلیب کا حادثہ اُن کو پیش آیا تھا کسی اور سقطہ یا ضربہ کا واقعہ نہیں ہوا پس بلاشبہ وہ مرہم انہی زخموں کے لئے تھی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے زندہ بچ گئے اور مرہم کے استعمال سے شفاپائی اور پھر اس جگہ وہ حدیث جو کنزالعمال میں لکھی ہے حقیقت کو اور بھی ظاہر کرتی ہے۔ یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کو اس ابتلا کے زمانہ میں جو صلیب کا ابتلا تھا حکم ہوا کہ کسی اور ملک
اور ادریس آسمان پر مگر ان کو معلوم نہیں کہ علماء محققین ان کو زندہ نہیں سمجھتے کیونکہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ آج سے ایک سو۱۰۰ برس کے گذرنے پر زمین پر کوئی زندہ نہیں رہے گا پس جو شخص خضر اور الیاس کو زندہ جانتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کا مکذب ہے اورا دریس کو اگر آسمان پر زندہ مانیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ وہ آسمان پر ہی مریں گے کیونکہ اُن کا دوبارہ زمین پر آنا نصوص سے ثابت نہیں اور آسمان پر مرنا آیت 3 ۱ کے منافی ہے۔منہ