کی طرف چلا جا کہ یہ شریر یہودی تیری نسبت بد ارادے رکھتے ہیں اور فرمایا کہ ایسا کر جو ان ملکوں سے دُور نکل جاتا تجھ کو شناخت کرکے یہ لوگ دُکھؔ نہ دیں۔ اب دیکھو کہ اس حدیث اور مرہم عیسیٰ کا نسخہ اور کشمیر کے قبر کے واقعہ کو باہم ملا کر کیسی صاف اصلیت اس مقولہ کی ظاہر ہو جاتی ہے۔ کتاب سوانح یوز آسف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہو گیا ہے اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا اور پھر اُسی کتاب میں اُس نبی کی تعلیم لکھی ہے اور وہ تعلیم مسئلۂ تثلیت کو الگ رکھ کر بعینہٖ انجیل کی تعلیم ہے۔ انجیل کی مثالیں اور بہت سی عبارتیں اُس میں بعینہٖ درج ہیں چنانچہ پڑھنے والے کو کچھ بھی اس میں شک نہیں رہ سکتا کہ انجیل اور اس کتاب کا مؤلف ایک ہی ہے اور طرفہ تر یہ کہ اس کتاب کا نام بھی انجیل ہی ہے۔ اور استعارہ کے رنگ میں یہودیوں کو ایک ظالم باپ قرار دے کر ایک لطیف قصہ بیان کیا ہے جو عمدہ نصائح سے پُر ہے اور مدّت ہوئی کہ یہ کتاب یورپ کی تمام زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور یورپ کے ایک حصہ میں یوز آسف کے نام پر ایک گرجا بھی طیار کیا گیا ہے اور جب میں نے اس قصہ کی تصدیق کے لئے ایک معتبر مرید اپنا جو خلیفہ نور الدین کے نام سے مشہور ہیں کشمیر سری نگر میں بھیجا تو انہوں نے کئی مہینے رہ کر بڑی آہستگی اور تدبر سے تحقیقات کی۔ آخر ثابت ہو گیا کہ فی الواقع صاحب قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جو یوز آسف کے نام سے مشہور ہوئے۔ یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے جس کے معنے ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھے کرنے والا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کشمیر کے بعض باشندے اس قبر کا نام عیسیٰ صاحب کی قبر بھی کہتے ہیں۔ اور اُن کی پُرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلادِ شام کی طرف سے آیا تھا۔ جس کو قریباً اُنیس۱۹۰۰ سو برس آئے ہوئے گذر گئے اور ساتھ اس کے بعض شاگرد تھے اور وہ کوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا اور اُس کی عبادت گاہ پر ایک کتبہ تھا جس کے یہ لفظ تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے جو بلادِ شام