اب تک آسمان سے نہیں اُترا تو یہ کیونکر مسیح بن کر آگیا اور ممکن نہیں جو الہامی کتابیں جھوٹ ہوں۔ اب بتلاؤ کہ آپ لوگ حضرت عیسیٰ سے تواتنی محبت رکھتے ہیںؔ کہ آپ لوگوں کی نظر میں نعوذ باللہ سید الاصفیاء واصفی الاصفیاء حضرت خاتم الابنیاء تو مردہ رسول مگر مسیح زندہ رسول اور باوصف اس قدر اطراء حضرت مسیح کے یہودیوں کا پہلو آپ لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ بھلا بتلاؤ کہ آپ لوگوں کے بیان میں جو آخری مسیح موعود کے بارے میں ہے اور یہودیوں کے بیان میں جوان کے اس زمانہ کے مسیح موعود کے بارے میں ہے فرق کیا ہے۔ کیا یہ دونوں عقیدے ایک ہی صورت کے نہیں ہیں؟ اور کیا میرا جواب اور حضرت عیسیٰ کا جواب ایک ہی طرز کا نہیں ہے؟ پھر اگر تقویٰ ہے تو اس قدر ہنگامہ محشر کیوں برپا کر رکھا ہے اور یہودیوں کی وکالت کیوں اختیار کرلی؟ کیا یہ بھی ضروری تھا کہ جب میں نے اپنے آپ کو مسیح کے رنگ میں ظاہر کیا تو اس طرف سے آپ لوگوں نے جواب دینے کے وقت فی الفور یہودیوں کا رنگ اختیار کرلیا۔ بھلا اگر بقول حضرت مسیح ایلیا کے دوبارہ نزول کے یہ معنے ہوئے کہ ایک اور شخص بروزی طور پر اُس کی خو اور طبیعت پر آئے گاتو پھر آپ کا کیا حق ہے کہ اس نبوی فیصلہ کو نظر انداز کرکے آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اب خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی آجائے گا۔ گویا خداتعالیٰ کو ایلیا نبی کے دوبارہ بھیجنے میں تو کوئی کمزوری پیش آگئی تھی مگر مسیح کے بھیجنے میں پھر خدائی قوت اس میں عود کر آئی۔ کیا اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ بعض آدمی آسمان پر بجسمہِ العنصری جاکر پھر دنیا میں آتے رہے ہیں کیونکہ حقیقتیں نظیروں کے ساتھ ہی کھلتی ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں کو حضرت عیسیٰ کے بے پدر ہونے پر اشتباہ ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے دلوں کو مطمئن کرنے کے لئے حضرت آدم کی نظیر پیش کر دی مگر حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کی* نہ حدیث میں نہ قرآن میں حالانکہ نظیر کا پیش کرنا دو وجہ سے ضروری
* بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ بھی تو عقیدہ اہل اسلام کا ہے کہ الیاس اور خضر زمین پر زندہ موجود ہیں