مقابلہ میں فوری عزت حاصل ہو اور جونا حق پر ہے اس کو فوری خذلان نصیب ہو اور پھر آمین کہہ کر دونوں فریق یعنی میں اور پیر مہر علی شاہ صاحب زبان عربی فصیح اور بلیغ میں اُن چالیس آیات کی تفسیر لکھیں جو بیس ورق سے کم نہ ہو اور جو شخص ہم دونوں میں سے فصاحتِ زبان عربی اور معارف قرآنی کے رُو سے غالب رہے وہی حق پر سمجھا جائے۔ اور اگر پیر صاحب موصوف اس مقابلہ سے کنارہ کش ہوں تو دوسرے مولوی صاحبان مقابلہ کریں بشرطیکہ چالیس سے کم نہ ہوں تا عام لوگوں پر اُن کے مغلوب ہونے کا کچھ اثر پڑ سکے اور اُن کی وقعت گھٹا نے کی گنجائش کم ہو جائے لیکن افسوس بلکہ ہزارؔ افسوس کہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے میری اس دعوت کو جس سے مسنون طور پر حق کھلتا تھا اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے فیصلہ ہو جاتا تھا ایسے صریح ظلم سے ٹال دیا ہے جس کو بجز ہٹ دھرمی کچھ نہیں کہہ سکتے اور ایک اشتہار شائع کیا کہ ہم اوّل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے بحث کرنے کے لئے حاضر ہیں اِس میں اگر تم مغلوب ہو تو ہماری بیعت کر لواور پھر بعد اس کے ہمیں وہ اعجازی مقابلہ بھی منظور ہے۔ اب ناظرین سوچ لیں کہ اس جگہ کس قدر جھوٹ اور فریب سے کام لیا گیا ہے کیونکہ جبکہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رُو سے مغلوب ہونے کی حالت میں میرے لئے بیعت کرنے کا حکم لگایا گیا ہے تو پھر مجھے اعجازی مقابلہ کے لئے کونسا موقع دیا گیا اور ظاہر ہے کہ غالب ہونے کی حالت میں تو مجھے خود ضرورت اعجازی مقابلہ کی باقی نہیں رہے گی اور مغلوب ہونے کی حالت میں بیعت کرنے کا حکم میری نسبت صادر کیا گیا۔ اب ناظرین بتلاویں کہ جس مقابلہ اعجازی کے لئے میں نے بلایا تھا اس کا موقع کونسا رہا۔ پس یہ کس قدر فریب ہے کہ پیر جی صاحب نے پیر کہلا کر اپنی جان بچا نے کے لئے اس کو استعمال کیا ہے۔ پھر اِس پر ایک اور جھوٹ یہ ہے کہ آپ اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ ہم نے آپ کی دعوت کو منظور کر لیا ہے۔ ناظرین انصاف کریں کہ کیا یہی طریق منظوری ہے جو انہوں نے پیش کیا ہے؟ منظوری تو اس حالت میں ہوتی کہ وہ بغیر کسی حیلہ بازی کے میری درخواست کو منظور