نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ بجواب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی 3۱؂ 3۲؂ ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے اشتہار مؤرخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ء ؁ میں پیر مہر علی صاحب گولڑوی کی اس بنا پر ایک اعجازی مقابلہ کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ دوسرے علماء پنجاب اور ہندوستان کی طرح میرے دعویٰ کے مکذب ہیں اور میری وہ تیس ۳۰ سے زیادہ کتابیں جو میں نے اپنے دعویٰ کے اثبات میں تالیف کرکے ملک میں شائع کی ہیں وہ ثبوت اُن کے لئے کافی نہیں ہے اور نیز وہ تمام مناظرات اور مباحثات جو اُن کے ہم عقیدہ علماء سے آج تک ہوتے رہے وہ بھی اُن کے نزدیک نظری ہیں تو اب آخری فیصلہ یہ ہے کہ وہ سنّتِ قدیمہ اکابر اسلام کے رُو سے اس طرح پر ایک مباہلہ کی صورت* پر مجھ سے مقابلہ کر لیں کہ قرآن شریف کی چالیس آیتیں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے نکال کر اور یہ دُعا کرکے کہ جو شخص حق پر ہے اُس کو اِس * اس قسم کا مقابلہ گو حقیقی طور پر مبا ہلہ نہیں کیونکہ اس میں *** نہیں اور کسی کے لئے عذاب کی درخواست نہیں اِسی لئے ہم نے اس کا نام اعجازی مقابلہ رکھا تا ہم مباہلہ کے اغراض نرم طور پر اس میں موجود ہیں جو خدا کے فیصلہ کے لئے کافی ہیں۔ منہ