کر لیتے مگر جبکہ آپ نے ایک اور درخواست پیش کر دی اور یہ لکھ دیا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے رُو سے مباحثہ ہو اور اگر منصف لوگ جو اُنہی کی جماعت میں سے ہوں گے یہ رائے ظاہر کریں کہ پیر صاحب اس مباحثہ میں غالب رہے تو پھر بیعت کر لو۔ اب بتلاؤ کہ جب منقولی مباحثہ پر ہی بیعت تک نوبت پہنچ گئی تو میری درخواست کے منظور کرنے کے کیا معنے ہوئے وہ تو بات ہی معرض التوا میں رہی کیا اسی کو منظوری کہتے ہیں؟ کیا میں پیر صاحب کا مرید بن کر پھر تفسیر لکھنے میں ان کا مقابلہ بھی کروں گا یا غالب ہونے کی حالت میں میرا حق نہیں ہوگا کہ میں اُن سے بیعت لوں اور میرے لئے پھر اعجازی مقابلہ کی ضرورت رہے گی مگر اُن کے لئے نہیں۔ اور پھر قابل شرم دھوکا جو اس اشتہار میں دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ بیان نہیں کیا گیا کہ ہماری اس دعوت سے اصل غرض کیا تھی۔ ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ اصل غرض اس اشتہار سے یہ تھی کہ جب کہ نقلی مباحثات سے مخالف علماء راہ راست پر نہیں آئے اور ان مباحثات کو ہوتے ہوئے بھی دس سال سے کچھ زیادہ گذر گئے اور اس عرصہ میں میں نے چھتیس کتابیں تالیف کرکے قوم میں شائع کیں اور ایک سو سے زیادہ اشتہار شائع کیا اور ان تمام تحریروں کی پچاس ہزار سے زیادہ کاپی ملک میں پھیلائی گئی اور نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے اعلیٰ درجہ کا ثبوت دیا گیا لیکن ان تمام دلائل اور مباحثات سے انہوں نے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا تو آخر خدا تعالیٰ سے امر پاکر سنت انبیاء علیہم السلام پر علاج اس میں دیکھا کہ ایک فوری مباہلہ کے رنگ میں اعجازی مقابلہ کیا جائے لیکن اب پیر صاحب مجھے اسی پہلے مقام کی طرف کھینچتے ہیں اور اسی سوراخ میں پھر میرا ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں جس میں بجز سانپوں کے میں نے کچھ نہیں پایا اور جس کی نسبت میں اپنی کتاب انجام آتھم میں مولویوں کی سخت دلی کو دیکھ کر تحریری وعدہ کر چکا ہوں کہ آئندہ ہم ان کے ساتھ مباحثات مذکورہ نہیں کریں گے پیر صاحب نے کسی جگہ ہاتھؔ پڑتا نہ دیکھ کر اس غریق کی طرح جو گھاس پات پر ہاتھ مارتا ہے مباحثہ کا بہانہ پیش کر دیا یہ خیال میری نسبت کرکے کہ اگر وہ مباحثہ نہیں