عربی ؔ زبان میں ایک خط اہلِ اسلام پنجاب اور ہندوستان اور عرب اور فارس وغیرہ ممالک کی طرف جہاد کی ممانعت کے بارے میں 3 نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اعلموا ایھا المسلمون رحمکم اللّٰہ ان اللّٰہ الذی تولی الاسلام۔ وکَفلَ امورہ العظام۔ جعل دینہ ھٰذا وصلۃ الی حکمہ وعلومہ۔ ووضع المعارف فی ظاھرہ ومکتومہ۔ فمن الحکم التی اودع ھٰذا الدین لیزید ھدی المھتدین۔ ھوالجھاد الذی امربہ فی صدر زمن الاسلام۔ ثم نھٰی عنہ فی ھٰذہ الایام۔ والسرّفیہ انہ تعالٰی اذن للذین یقاتلون فی اوّل زمان الملّۃ دفعًا لصول الکفرۃ۔ وحفظا للدین ونفوس الصحبۃ ثم انقلب امرالزمان عند عھد الدولۃ البرطانیۃ۔ وحصل الامن* للمسلمین وما بقی حاجۃ السیوف والاسنۃ۔ فعند ذالک اثم المخالفون المجاھدین۔ وسلکوھم مسلک الظالمین السفاکین۔ ولبس اللّٰہ علیھم سرّالغزاۃ والغازین۔ فنظروا الٰی محاربات الدین کلھا بنظر الزرایۃ۔ ونسبوا کل من غزاالی الجبر و الطغیان والغوایۃ۔ * نوٹ:۔ لا شک انا نعیش تحت ھٰذا السلطنۃ البرطانیۃ بالحریۃ التامۃ وحفظت اموالنا ونفوسنا وملّتنا واعراضنا من ایدی الظالمین بعنایۃ ھٰذہ الدولۃ۔ فوجب علینا شکرمن عمّر۱؂نا بنوالہ۔ وسقاناکأس الراحۃ بمآثرخصالہٖ ووجب ان نری اعداء ہ صقال العضب ونوقد لہ لا علیہ نار الغضب۔ منہ ۱؂ ایڈیشن اول کے مطابق ہے جو غالباً سہو کتابت ہے۔ روحانی خزائن میں اسے غمرنا لکھا ہے جو درست معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ناشر