اب سال سترہ۱۷ بھی صدی سے گذر گئے
تم میں سے ہائے سوچنے والے کِدھر گئے
تھوڑے نہیں نشاں جو دکھائے گئے تمہیں
کیا پاک راز تھے جو بتائے گئے تمہیں
پر تم نے اُن سے کچھ بھی اُٹھایا نہ فائدہ
مُنہ پھیر کر ہٹا دیا تم نے یہ مائدہ
بخلوں سے یارو باز بھی آؤگے یا نہیں
خو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں
باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں
حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں
اب عذر کیا ہے کچھ بھی بتاؤگے یا نہیں
مخفی جو دل میں ہے وہ سُناؤ گے یا نہیں
آخر خدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں
اُس وقت اُس کو مُنہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں
تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار
اب اُس کا فرض ہے کہ وہ دل کرکے اُستوار
لوگوں کو یہ بتائے کہ وقتِ مسیح ہے
اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا
اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خُدا