سو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی
نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی
خوانِ تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی
دیں بھی ہے ایک قشر حقیقت نہیں رہی
مولیٰ سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی
دل مر گئے ہیں نیکی کی قدرت نہیں رہی
سب پر یہ اِک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی
اِک پُھوٹ پڑ رہی ہے مودّت نہیں رہی
تم مر گئے تمہاری وہ عظمت نہیں رہی
صورت بگڑ گئی ہے وہ صورت نہیں رہی
اب تم میں کیوں وہ سیف کی طاقت نہیں رہی
بھید اس میں ہے یہی کہ وہ حاجت نہیں رہی
اب کوئی تم پہ جبر نہیں غیر قوم سے
کرتی نہیں ہے منع صلوٰۃ اور صوم سے
ہاں آپ تم نے چھوڑ دیا دیں کی راہ کو
عادت میں اپنے کر لیا فسق و گناہ کو
اب زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے
مومن نہیں ہو تم کہ قدم کافرانہ ہے
اے قوم تم پہ یار کی اب وہ نظر نہیں
روتے رہو دعاؤں میں بھی وہ اثر نہیں
کیونکر ہو وہ نظر کہ تمہارے وہ دل نہیں
شیطاں کے ہیں خدا کے پیارے وہ دل نہیں
تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے
جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے
کچھؔ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے
باقی جو تھے وہ ظالم و سفّاک ہو گئے
اب تم تو خود ہی موردِ خشمِ خدا ہوئے
اُس یار سے بشامتِ عصیاں جُدا ہوئے
اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے
تم خود ہی غیر بن کے محلِ سزا ہوئے
سچ سچ کہو کہ تم میں امانت ہے اب کہاں
وہ صدق اور وہ دین و دیانت ہے اب کہاں
پھر جبکہ تم میں خود ہی وہ ایماں نہیں رہا
وہ نور مومنانہ وہ عرفاں نہیں رہا
پھر اپنے کفر کی خبر اے قوم لیجئے
آیت علیکم انفسکم یاد کیجئے
ایسا گماں کہ مہدئ خونی بھی آئے گا
اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا
اے غافلو! یہ باتیں سراسر دروغ ہیں
بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں
یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا
یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا