یترکک۔ انّی انااللّٰہ فاخترنی۔ قل ربّ انی اخترتک علی کلّ شء۔ ترجمہ۔ میں اُس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلّت چاہتا ہے اور میں اس کو مدد دوں گا جو تیری مدد کرتا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں جو تجھے چھوڑ دے جب تک وہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرلے۔ خدا ہر ایک عیب سے پاک ہے اورتو اس کا وقار ہے پس وہ تجھے کیونکر چھوڑ دے۔ میں ہی خدا ہوں تو سراسر میرے لئے ہو جا۔ تو کہہ اے میرے رب میں نے تجھے ہر چیز پر اختیار کیا۔ اور پھر فرمایا۔ سیقول العدولست مرسلا۔ سناخذہ من مارن او خر۔طوم۔ وانّا من الظالمین منتقمون۔ انی مع الافواج اٰتیک بغتۃً۔ یوم یعضّ الظالم علٰی یدیہ یالیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا۔ وقالوا سیقلب الامر وما کانوا علی الغیب مطّلعین۔ انا انزلناک وکان اللّٰہ قدیرا۔ یعنی دشمن کہے گا کہ تو خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ ہم اس کو ناک سے پکڑیں گے یعنی دلائل قاطعہ سے اُس کا دم بند کردیں گے اور ہم جزا کے دن ظالموں سے بدلہ لیں گے۔ میں اپنی فوجوں کے ساتھ تیرے پاس ناگہانی طور پر آؤں گایعنی جس گھڑی تیری مدد کی جائے گی اس گھڑی کا تجھے علم نہیں۔ اور اس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا کہ کاش میں اس خداکے بھیجے ہوئے سے مخالفت نہ کرتا اور اُس کے ساتھ رہتا۔ اور کہتے ہیں کہ یہ جماعت متفرق ہو جائے گی اور بات بگڑ جائے گی حالانکہ اُن کو غیب کا علم نہیں دیا گیا۔ تو ہماری طرف سے ایک بُرہان ہے اور خدا قادر تھا کہ ضرورت کے وقت میں اپنی بُرہان ظاہر کرتا اور پھر فرمایا انا ارسلنا احمد الی قومہ فاعرضوا وقالواکذّاب اشر۔ وجعلوا یشھدون علیہ ویسیلون کماء منھمر۔ ان حِبّی قریب مستتر۔ یأتیک نصرتی انّی اناالرحمٰن۔ انت قابل یأتیک وابل۔ انّی حاشر کل قوم یأتونک جنبا۔ وانی انرت مکانک۔ تنزیل من اللّٰہ العزیز الرحیم بلجت آیاتی۔ ولن یجعل اللّٰہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا۔ انت مدینۃ العلم۔ طیب مقبول الرحمٰن۔ وانت اسمی الاعلٰی۔ بشریٰ لک فی ھٰذہ الایام۔ انت منّی