یا ابراھیم۔ انت القائم علٰی نفسہ مظھر الحیّ۔ وانت منّی مبدء الامر۔ انت من مائنا وھم من فشل۔ ام یقولون نحن جمیع منتصر۔ سیھزم الجمع ویولّون الدّبر۔ الحمدللّٰہ الذی جعل لکم الصھر والنسب۔ انذرقومک وقل انی نذیر مبین۔ انا اخرجنا لک زروعًا یا ابراھیم۔ قالوا لَنھلکنّک۔ قال لاخوف علیکم لاغلبن انا و رسلی۔ وانّی مع الافواج اٰتیک بغتۃ۔ وانّی اموج موج البحر۔ ان فضل اللّٰہ لاٰت۔ ولیس لاحد ان یرد ما اتٰی۔ قل ای وربّی انہ لحق لا یتبدّل ولا یخفٰی۔ وینزل ما تعجب منہ وحی من ربّ السماوات العلٰی۔ لا الٰہ الّا ھو یعلم کل شئ و یریٰ۔ ان اللّٰہ مع الذین اتقوا والذین ھم یحسنون الحسنٰی تُفَتَّحُ لھم ابواب السّماء ولھم بشریٰ فی الحیٰوۃ الدنیا۔ انت تربی فی حجر النبی* وانت تسکن قنن الجبال۔ وانّی معک فی کل حال۔ ترجمہ ۔ہم نے احمد کو اس کی قوم کی طرفؔ بھیجا۔ تب لوگوں نے کہا کہ یہ کذّاب ہے اور انہوں نے اس پر گواہیاں دیں اور سیلاب کی طرح اس پر گرے۔ اس نے کہا کہ میرا دوست قریب ہے مگر پوشیدہ تجھے میری مدد آئے گی۔ میں رحمن ہوں۔ تو قابلیت رکھتا ہے اس لئے تو ایک بزرگ بارش کو پائے گا۔ میں ہر ایک
* بعض ؔ نادان کہتے ہیں کہ عربی میں کیوں الہام ہوتا ہے اِس کا یہی جواب ہے کہ شاخ اپنی جڑ سے علیحدہ نہیں ہو سکتی۔ جس حالت میں یہ عاجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنار عاطفت میں پرورش پاتا ہے جیسا کہ برا ؔ ہین احمدیہ کا یہ الہام بھی اس پر گواہ ہے کہ تبارک الّذی من علّم وتعلّم۔ بہت برکت والا وہ انسان ہے جس نے اس کو فیض روحانی سے مستفیض کیا۔ یعنی سیدنا رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم۔ اور دوسرا بہت برکت والا یہ انسان ہے جس نے اس سے تعلیم پائی۔ تو پھر جب معلم اپنی زبان عربی رکھتا ہے ایسا ہی تعلیم پانے والے کا الہام بھی عربی میں چاہئے تا مناسبت ضائع نہ ہو۔ منہ