اس کا جواب نہیں آیا تھا اور باوجود یکہ تواریخ کی ورق گردانی میں یہ لوگ بہت کچھ مہارت رکھتے ہیں مگر وہ اس دلیل کے توڑنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کر سکا* اور لاجواب رہ گیا اور آج حافظ محمد یوسف صاحب مسلمانوں کے فرزند کہلاکر اس قرآنی دلیل سے انکار کرتے ہیں اور یہ معاملہ صرف زبانی ہی نہیں رہا بلکہ ایک ایسی تحریر اس بارے میں ہمارے پاس موجود ہے جس پر حافظ صاحب کے دستخط ہیں جو انہوں نے محبّی اخویم مفتی محمد صادق صاحب کو اس عہد اقرار کے ساتھ دی ہے کہ ہم ایسے مفتریوں کا ثبوت دیں گے جنہوں نے خدا کے مامور یا نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر وہ اس دعویٰ کے بعد تیئیس برس سے زیادہ جیتے رہے۔ یاد رہے کہ یہ صاحب مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے گروہ میں سے ہیں اور بڑے موحّد مشہور ہیں اور ان لوگوں کے عقائد کا بطور نمونہ یہ حال ہے جو ہم نے لکھا۔ اور یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ قرآن کے دلائل پیش کردہ کی تکذیب قرآن کی تکذیب ہے۔ اور اگر قرآن شریف کی ایک دلیل کو ردّ کیا جائے تو امان اٹھ جائے گا اور اس سے لازم آئے گا کہ قرآن کے تمام دلائل جو توحید اور رسالت کے اثبات میں ہیں سب کے سب باطل اور ہیچ ہوں اور آج تو حافظ صاحب نے اِس ردّ کے لئے یہ بیڑا اٹھایا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ لوگوں نے تیئیس برس تک یا اس سے زیادہ نبوت یا رسالت کے جھوٹے دعوے کئے اور پھر زندہ رہے اور کل شائد
* پادری فنڈل صاحب نے اپنے میزان الحق میں صرف یہ جواب دیا تھا کہ مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ دنیا میں کئی کروڑبت پرست موجود ہیں لیکن یہ نہایت فضول جواب ہے کیونکہ بُت پرست لوگ بت پرستی میں اپنے وحی من اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے یہ نہیں کہتے کہ خدا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ بت پرستی کو دنیا میں پھیلاؤ۔ وہ لوگ گمراہ ہیں نہ مفتری علی اللہ۔ یہ جواب امر متنازع فیہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ قیاس مع الفارق ہے کیونکہ بحث تو دعویٰ نبوت اور افترا علی اللہ میں ہے نہ فقط ضلالت میں۔منہ