نیز کئی اور قرائن کے رُو سے بھی مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اپنی کتاؔ ب حجج الکرامہ میں لکھتے ہیں کہ میں بلحاظ قرائن قویہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر مہدی معہود کا ظہور ہوگا۔ اور ان قرائن میں سے ایک یہ ہے کہ تیرھویں صدی میں بہت سے دجّالی فتنے ظہور میں آگئے ہیں۔ اب دیکھو کہ اس نامی مولوی نے جو بہت سی کتابوں کا مؤلف بھی ہے کیسی صاف گواہی دے دی کہ چودھویں صدی ہی مہدی اور مسیح کے ظاہر ہونے کا وقت ہے اور صرف اِسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنی کتاب میں اپنی اولاد کو وصیت بھی کرتا ہے کہ اگر میں مسیح موعود کا زمانہ نہ پاؤں تو تم میری طرف سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا السلام علیکم مسیح موعود کو پہنچا دو۔* مگر افسوس کہ یہ تمام باتیں صرف زبان سے تھیں اور دل انکار سے خالی نہ تھا اگر وہ میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کا زمانہ پاتے تو ظاہر قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے دوسرے بھائیوں علماء سے لعن وطعن اور تکفیرو تکذیب اور تفسیق میں شریک ہو جاتے۔ کیا اِن مولویوں نے چودھویں صدی کے آنے پر کچھ غور بھی کی؟ کچھ خوف خدا اور تقویٰ سے بھی کام لیا؟ کونسا حملہ ہے جو نہیں کیا اور کونسی تکذیب اور توہین ہے جو ان سے ظہور میں نہیں آئی اور کونسی گالی ہے جس سے زبان کو رو کے رکھا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تک کسی دل کو خدانہ کھولے کُھل نہیں سکتا۔ اور جب تک وہ قادر کریم خود اپنے فضل سے بصیرت
* آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسیح موعود کو السلام علیکم پہنچایا یہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک پیشگوئی ہے نہ عوام کی طرح معمولی سلام۔ اور پیشگوئی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بشارت دیتے ہیں کہ جس قدر مخالفین کی طرف سے فتنے اُٹھیں گے اور کافر اور دجّال کہیں گے اور عزّت اور جان کا ارادہ کریں گے اور قتل کیلئے فتوے لکھیں گے خدا ان سب باتوں میں ان کو نامراد رکھے گا اور تمہارے شامل حال سلامتی رہے گی۔ اور ہمیشہ کے لئے عزت اور بزرگی اور قبولیت اور ہر یک ناکامی سے سلامتی صفحۂ دنیا میں محفوظ رہے گی جیسا کہ السلام علیکم کا مفہوم ہے۔ منہ