اِس وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی مدافعت نہ ہوتی تو پھر اس کے بعد کس وقت کی انتظار تھی؟ اور نیز جبکہ مسیح موعود کا صدی کے سر پر ہی آنا ضروری ہے اور چودھویں صدی میں سے سترہ برس گذر گئے تو اس صورت میں اگر اب تک مسیح نہیں آیا تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی مرضی ہے کہ اور سو برس تک یا اس سے بھی زیادہ اسلام کو نشانۂ توہین و تحقیر رکھے۔ لیکن اس کسر صلیب سے میری مراد وہ طریق جہاد اور کشت و خون نہیں جو حال کے اکثر علماء کا مد نظر ہے۔ کیونکہ وہ لوگ تمام خوبیوں کو جہاد اور لڑائی پر ہی ختم کر بیٹھے ہیں۔ اور میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ مسیح یا اور کوئی دین کے لئے لڑائیاں کرے۔*
(۲) دوسری دلیل وہ بعض احادیث او رکشوف اولیاءِ کرام وعلماءِ عظام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ چنانچہ حدیث اَلاٰیات بعد المأتین کی تشریح بہت سے متقدمین اور متاء خرین نے یہی کی ہے جو ماتین کے لفظ سے وہ مأتین مراد ہیں جو الف کے بعد ہیں یعنی ہزار کے بعد اس طرح پر معنے اس حدیث کے یہ ہوئے کہ مہدی اور مسیح کی پیدائش جو آیاتِ کبریٰ میں سے ہے تیرھویں صدی میں ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔ یہی معنے محققین علماء نے کئے ہیں اور انہی قرائن سے انہوں نے حکم کیا ہے کہ مہدی معہود کا تیرھویں صدی میں پیدا ہوجانا ضروری ہے تا چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو سکے۔ چنانچہ اسی بنا پر اور
* اگر کسی کمزور یا نابینا کے کپڑے پر کوئی پلیدی لگ جائے یا وہ شخص خود کیچڑ میں پھنس جائے تو ہماری انسانی ہمدردی کا یہ تقاضا نہیں ہو سکتا کہ ان مکروہ اسباب کی وجہ سے اس کمزور یانابینا کو قتل کر دیں بلکہ ہمارے رحم کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ ہم خود اُٹھ کر محبت کی راہ سے اُس کیچڑ سے اس عاجز کے پیر باہر نکالیں اور کپڑے کو دھودیں۔ منہ