عنایت نہ کرے تب تک کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ اور پھر ایک ثبوت چودھویں صدی کے متعلق یہ ہے کہ ایک بزرگ نے مدّت دراز سے ایک شعر اپنے کشف کے متعلق شائع کیا ہوا ہے جس کو لاکھوں انسان جانتے ہیں۔ اس کشف میں بھی یہی لکھا ہے کہ مہدئ معہود یعنی مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ اور وہ شعر یہ ہے
درسن غاشی ہجری دو قراں خواہد بود
از پئے مہدی و دجّال نشاں خواہد بود
اِس شعر کا ترجمہ یہ ہے کہ جب چودھویں صدی میں سے گیارہ برس گذریں گے تو آسمان پر خسوف کسوف چاند اور سورج کا ہوگا اور وہ مہدی اور دجال کے ظاہر ہوجانے کا نشان ہوگا۔ اِس شعر میں مؤلف نے دجال کے مقابل پر مسیح نہیں لکھا بلکہ مہدی لکھا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ مہدی اور مسیح دونوں ایک ہی ہیں۔ اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے پوری ہو گئی اور میرے دعویٰ کے وقت رمضان کے مہینہ میں اسی صدی میں یعنی چودھویں صدی ۱۳۱۱ھ میں خسوف کسوف ہو گیا۔ فالحمدللّٰہ علٰی ذالک۔ ایسا ہی دارقطنی کی ایک حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ وہ حدیث یہ ہے کہ انّ لمھد ینا اٰیتین الخ۔ ترجمہ تمام حدیث کا یہ ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں جب سے زمین و آسمان کی بنیاد ڈالی گئی وہ نشان کسی مامور اور مرسل اور نبی کے لئے ظہور میں نہیں آئے اور وہ نشان یہ ہیں کہ چاند کا اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں ا ور سورج کا اپنے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں رمضان کے مہینہ میں گرہن ہوگا۔ یعنی انہی دنوں میں جبکہ مہدی اپنا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور دنیا اُس کو قبول نہیں کر ے گی آسمان پر اس کی تصدیق کے لئے ایک نشان ظاہر ہوگا۔ اور وہ یہ کہ مقررہ تاریخوں میں جیسا کہ حدیث مذکورہ میں درج ہیں سورج چاند کا رمضان کے مہینہ میں جو نزول کلام الٰہی کا مہینہ ہے گرہن ہوگا اور ظلمت کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اشارہ ہوگا کہ زمین پر ظلم کیا گیا اور جو خدا کی طرف سے تھا اس کو مفتری سمجھا گیا۔ اب