دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک قطعی فیصلہ کے طور پر یہ رائے ظاہر کرنی پڑتی ہے کہ تیرہ سوبرس کی بارہ صدیوں میں سے کوئی بھی ایسی صدی اسلام کے مضرّ نہیں گذری کہ جیسے تیرھویں صدی گذری ہے اور یا جو اب گذر رہی ہے ۔ لہٰذا عقل سلیم اس بات کی ضرورت کو مانتی ہے کہ ایسے پُر خطر زمانہ کے لئے جس میں عام طور پر زمین میں بہت جوش مخالفت کا پھوٹ پڑا ہے اور مسلمانوں کی اندرونی زندگی بھی ناگفتہ بہ حالت تک پہنچ گئی ہے کوئی مصلح صلیبی فتنوں کا فرو کرنے والا اور اندرونی حالت کو پاک کرنے والا پیدا ہو۔ اور تیرھویں صدی کے پورے سو برس کے تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اِن زہریلی ہواؤں کی اصلاح جو بڑے زور شور سے چل رہی ہیں اور عام و با کی طرح ہر ایک شہر اور گاؤں سے کچھ کچھ اپنے قبضہ میں لارہی ہیں ہر ایک معمولی طاقت کا کام نہیں کیونکہ یہ مخالفانہ تاثیرات اور ذخیرہ اعتراضات خود ایک معمولی طاقت نہیں بلکہ زمین نے اپنے وقت پر ایک جوش مارا ہے اور اپنے تمام زہروں کو بڑی قوت کے ساتھ اُگلا ہے اس لئے اس زہر کی مدافعت کے لئے آسمانی طاقت کی ضرورت ہے کیونکہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے۔ سو اس دلیل سے روشن ہو گیا کہ یہی زمانہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے۔ یہ بات بڑی سریع الفہم ہے جس کو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس حالت میں علت غائی مسیح کے آنے کی کسر صلیب ہے اور آج کل مذہب صلیب اُس جوانی کے جوشوں میں ہے جس سے بڑھ کر اُس کی قوتوں کا نشو ونما اور اس کے حملوں کا طریق ہیبت نما ہونا ممکن نہیں* تو پھر اگر * اس وجہ سے اس سے زیادہ سختی ممکن نہیں کہ جس قدر اسلام پر ابتلا آنا تھا آگیا اب اس سے زیادہ اس اُمت مرحومہ پر ابتلا نہیں آسکتا کیونکہ اگر اس سے زیادہ مخالفت کی کامیابی ہو جائے تو قرائن قویہ صاف گواہی دے رہے ہیں کہ اسلام کا بکلی استیصال ہو جائے۔ لہٰذا ضروری تھا کہ اس درجہ کے ابتلا پر مسیح کا سرالصلیب آجاتا اور اس سے زیادہ اسلام کو خفّت نہ اٹھانی پڑتی۔ منہ