اور یہ نص قطعی کلام الٰہی کی آفتاب کی طرح چمک کر ہمیں بتلا رہی ہے کہ سلسلہ خلافتِ محمدی کے تمام خلیفے خلفاء موسوی کے مثیل ہیں۔ اِسی طرح آخری خلیفہ جو خاتم ولایت محمدیہ ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے وہ حضرت عیسیٰ سے جو خاتم سلسلۂ نبوت موسویہ ہے مماثلت اور مشابہت رکھتا ہے۔ مثلاً دیکھو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یوشع بن نون سے کیسی مشابہت ہے کہ انہوں نے ایسا ایک ناتمام کام لشکر اسامہ اور انبیاء کا ذبین کے مقابلہ کا پورا کیا جیسا کہ حضرت یوشع بن نون نے پورا کیا۔ اور آخری خلیفہ سلسلہ موسوی کا یعنی حضرت عیسیٰ جیسا کہ اُس وقت آیا جبکہ گلیل اور پیلا طوس کے علاقہ سے سلطنت یہود کی جاتی رہی تھی ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کا مسیح ایسے وقت میں آیا کہ جب ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکی۔
تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ آیا یہ امر ثابت ہے یا نہیں کہ آنے والا مسیح موعود اسی زمانہ میں آنا چاہیئے جس میں ہم ہیں۔ سو دلائل مفصلہ ذیل سے صاف طور پر کُھل گیا ہے کہ ضرور ہے کہ وہ اسی زمانہ میں آوے:۔
(۱) اوّل دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے لکھا ہے کہ مسیح موعود کسر صلیب کے لئے آئے گا۔ اور ایسے وقت میں آئے گا کہ جب ملک میں ہر ایک پہلو سے بے اعتدالیاں قول اور فعل میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ سو اب اِس نتیجہ تک پہنچنے کے لئے غور سے دیکھنے کی بھی حاجت نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ عیسائیت کا اثر لاکھوں انسانوں کے دلوں پر پڑ گیا ہے۔ اور ملک اباحت کی تعلیموں سے متاؔ ثر ہوتا جاتا ہے۔ صدہا آدمی ہر ایک خاندان میں سے نہ صرف دین اسلام سے ہی مرتد ہو گئے ہیں بلکہ جناب سیدنا رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن بھی ہو گئے ہیں اور اب تک صدہا کتابیں دین اسلام کے ردّ میں تالیف بھی ہو چکی ہیں اور اکثر وہ کتابیں توہین اور گالیوں سے پُر ہیں اور اس مصیبت کے وقت جب ہم گزشتہ زمانہ کی طرف