نسبت یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ اس اُمت کا خاتم الاولیاء ہے۔* جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں حضرت عیسیٰ خاتم الانبیاء ہے۔ اگر درحقیقت وہی عیسیٰ علیہ السلام ہے جو دو بارہ آنے والا ہے تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن جیسا کہ کَمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتا ہے دونوں سلسلوں کے تمام خلیفوں کو من وجہ مغائر قرار دیتا ہے اور یہ ایک نص قطعی ہے کہ اگر ایک دنیا اس کے مخالف اکٹھی ہو جائے تب بھی وہ اس نص واضح کو ردّ نہیں کر سکتی کیونکہ جب پہلے سلسلہ کا عین ہی نازل ہو گیا تو وہ مغائرت فوت ہو گئی اور لفظ کَمَا کا مفہوم باطل ہوگیا۔ پس اس صورت میں تکذیب قرآن شریف لازم ہوئی۔ وھٰذا باطل وکلّما یستلزم الباطل فھو باطل۔ یاد رہے کہ قرآن شریف نے آیت 33 ۱ میں وہی کَمَا استعمال کیا ہے جو آیت 333۲ میں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگرکوئی شخص یہ دعویٰ کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہو کر نہیں آئے بلکہ یہ خود موسیٰ بطور تناسخ آگیا ہے یا یہ دعویٰ کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے کہ توریت کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں بلکہ اس پیشگوئی کے معنے یہ ہیں کہ خود موسیٰ ہی آجائے گا جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہے تو کیا اس فضول دعویٰ کا یہ جواب نہیں دیا جائے گا کہ قرآن شریف میں ہرگز بیان نہیں فرمایا گیا کہ خود موسیٰ آئے گا بلکہ کَمَاکے لفظ سے مثیل موسیٰ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ پس یہی جواب ہماری طرف سے ہے کہ اس جگہ بھی سلسلہ خلفاء محمدی کے لئے کَمَا کا لفظ موجود ہے۔
* شیخ محی الدین ابن عربی اپنی کتاب فصوص میں مہدی خاتم الاولیاء کی ایک علامت لکھتے ہیں کہ اس کا خاندان چینی حدود میں سے ہوگا اور اس کی پیدائش میں یہ ندرت ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک لڑکی بطور توام پیدا ہوگی۔ یعنی اس طرح پر خدا اناث کا مادہ اس سے الگ کر دے گا۔ سو اسی کشف کے مطابق اس عاجز کی ولادت ہوئی ہے اور اسی کشف کے مطابق میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب میں پہنچے ہیں۔ منہ