قوم میں سے نہیں ہوگا کیونکہ ضرور تھا کہ جیسا کہ موسوی سلسلہ کا خاتم الانبیاء اپنے باپ کے رو سے حضرت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں ہے ایسا ہی محمدی سلسلہ کا خاتم الاولیاء قریش میں سے نہ ہو اور اسی جگہ سے قطعی طور پر اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ اسلام کا مسیح موعود اِسی امت میں سے آنا چاہئے کیونکہ جبکہ نص قطعی قرآنی یعنی کَمَا کے لفظ سے ثابت ہو گیا کہ سلسلہ استخلاف محمدی کا سلسلہ استخلاف موسوی سے مماثلت رکھتا ہے جیسا کہ اُسی کَمَا کے لفظ سے ان دو نبیوں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت ثابت ہے جو آیت 33 ۱؂ سے سمجھی جاتی ہے تو یہ مماثلت اسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے جبکہ محمدی سلسلہ کے آنے والے خلیفے گزشتہ خلیفوں کا عین نہ ہوں بلکہ غیر ہوں۔* وجہ یہ کہ مشابہت اور مماثلت میں من وجہٍ مغائرت ضرؔ وری ہے اور کوئی چیز اپنے نفس کے مشابہہ نہیں کہلا سکتی۔ پس اگر فرض کر لیں کہ آخری خلیفہ سلسلہ محمدیہ کا جو تقابل کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر واقع ہوا ہے جس کی جبکہ بوجہ کَمَا کے لفظ کے جو آیت 33 ۲؂ میں موجود ہے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کی نسبت وجوباً وقطعاً مان لیا گیا ہے کہ وہ وہی خلیفے نہیں ہیں جو موسوی سلسلہ کے خلیفے تھے ہاں اُن خلیفوں سے مشابہ ہیں اور نیز ساتھ اس کے واقعات نے بھی ظاہر کر دیا ہے کہ وہ لوگ پہلے خلیفوں کے عین نہیں ہیں بلکہ غیر ہیں۔ تو پھر آخری خلیفہ اس سلسلہ محمدیہ کی نسبت جو مسیح موعود ہے کیوں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ پہلے مسیح کا عین ہے؟ کیا وہ کَمَا کے لفظ کے نیچے نہیں ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ حسب منشاء کَمَا کے لفظ کے محمدی سلسلہ کا مسیح اسرائیلی مسیح کا غیر ہونا چاہئے نہ عین۔ عین سمجھنا تو قرآن کے منطوق نص پر صریح حملہ ہے بلکہ قرآن شریف کی صریح تکذیب ہے اور نیز ایک بے جا تحکم کہ باراں خلیفوں کو تو حسب منشاء کَمَا کے لفظ کے اسرائیلی خلیفوں کا غیر سمجھنا اور پھر مسیح موعود کو جو سلسلہ موسویہ کے مقابل پر سلسلہ محمدیہ کا آخری خلیفہ ہے پہلے مسیح کا عین قرار دے دینا۔ وھٰذہ نکتۃ مبتکرۃ وحجّۃ باھرۃ ودرّۃ من دُررٍ تفردت بھا فخذوھا بقوۃ واشکروا اللّٰہ بانابۃٍ ولا تکونوا من المحرومین۔ منہ