وتے اور آخرؔ ی خلیفہ اپنے آباء واجداد کے رُو سے اس قوم میں سے نہ ہوتا تاتحقّق مشابہت اکمل اور اتم طور پر ہو جاتا۔ سو الحمدللّٰہ والمنّۃ کہ ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث متفق علیہ ہے جو جابر بن سمرہ سے ہے اور وہ یہ ہے۔ لا یزال الاسلام عزیزًا الٰی اثنا عشر خلیفۃ کلھم من قریش۔ یعنی بارہ خلیفوں کے ہوتے تک اسلام خوب قوت اور زور میں رہے گا مگر تیرھواں خلیفہ جو مسیح موعود ہے اُس وقت آئے گا جبکہ اسلام غلبۂ صلیب اور غلبہ دجالیت سے کمزور ہو جائے گا اور وہ بارہ خلیفے جو غلبۂ اسلام کے وقت آتے رہیں گے وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے ہوں گے۔* مگر مسیح موعود جو اسلام کے ضعف کے وقت آئے گا وہ قریش کی * الفاظ حدیث یہ ہیں۔ عن جابربن سمرۃ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول لا یزال الاسلام عزیزا الٰی اثنیٰ عشر خلیفۃ کلھم من قریش متفق علیہ مشکوٰۃ شریف باب مناقب قریش۔ یعنی اسلام باراں خلیفوں کے ظہور تک غالب رہے گا اور وہ تمام خلیفے قریش میں سے ہوں گے۔ اس جگہ یہ دعویٰ نہیں ہو سکتا کہ مسیح موعود بھی انہی باراں میں داخل ہے کیونکہ متفق علیہ یہ امر ہے کہ مسیح موعود اسلام کی قوت کے وقت نہیں آئے گابلکہ اس وقت آئے گا جبکہ زمین پر نصرانیت کا غلبہ ہوگا جیسا کہ یکسر الصلیب کے فقرہ سے مستنبط ہوتا ہے۔ پس ضرور ہے کہ مسیح کے ظہور سے پہلے اسلام کی قوت جاتی رہے اور مسلمانوں کی حالت پر ضعف طاری ہو جائے اور اکثر ان کے دوسری طاقتوں کے نیچے اسی طرح محکوم ہوں جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور کے وقت یہودیوں کی حالت ہو رہی تھی۔ چونکہ حدیثوں میں مسیح موعود کا خاص طور پر تذکرہ تھا اس لئے باراں خلیفوں سے اس کو الگ رکھا گیا کیونکہ مقدر ہے کہ وہ نزول شدائد و مصائب کے بعد آوے اور اس وقت آوے جبکہ اسلام کی حالت میں ایک صریح انقلاب پیدا ہو جائے اور اِسی طرز سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تھے یعنی ایسے وقت میں جبکہ یہودیوں میں ایک صریح زوال کی علامت پیدا ہو گئی تھی پس اس طریق سے حضرت موسیٰ کے خلیفے بھی تیرہ ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفے بھی تیرہ اور جیسا کہ حضرت موسیٰ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام چودھویں جگہ تھے ایسا ہی ضرور تھا کہ اسلام کا مسیح موعود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چودھویں جگہ پر ہو اِسی مشابہت سے مسیح موعود کا چودھویں صدی میں ظاہر ہونا ضروری تھا۔ منہ