رفع *** کے مقابل پر نہیں بلکہ جیسا کہ *** بھی ایک روحانی امر ہے ایسا ہی رفع بھی ایک امر رُوحانی ہونا چاہئے۔ پس وہی مقصود بالذّات امر تھا۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ جو امر تصفیہ کے متعلق تھا وہ اعتراض تو بدستور گلے پڑا رہا اور خدا نے خواہ نخواہ ایک غیر متعلق بات جو یہود کے عقیدہ اور باطل استنباط سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتی یعنی رفع جسمانی اِس کا قصہ بار بار قرآن شریف میں لکھ مارا۔ گویا سوال دیگر اور جواب دگر۔ ظاہر ہے کہ رفع جسمانی یہود اور نصاریٰ اور اہلِ اسلام تینوں فرقوں کے عقائد کے رو سے مدار نجات نہیں۔* بلکہ کچھ بھی نجات اِس پر موقوف نہیں تو پھر کیوں خدا نے اس کو بار بار ذکر کرنا ؔ شروع کر دیا۔ یہود کا یہ کب مذہب ہے کہ بغیر جسمانی رفع کے نجات نہیں ہو سکتی اور نہ سچا نبی ٹھہر سکتا ہے پھر اس لغو ذکر سے فائدہ کیا ہوا؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جو تصفیہ کے لائق امر تھا جس کے عدم تصفیہ سے ایک سچا نبی جھوٹا ٹھہرتا ہے بلکہ نعوذ باللہ کافر بنتا ہے اور *** کہلاتا ہے اس کا تو قرآن نے کچھ ذکر نہ کیا اور ایک بے ہودہ قصہ رفع جسمانی کا جس سے کچھ بھی فائدہ نہیں شروع کر دیا۔خ غرض حضرت مسیح * یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اُس رفع سے منکر تھے جو ہریک مومن کے لئے مدارِ نجات ہے کیونکہ مسلمانوں کی طرح اُن کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ جان نکلنے کے بعد ہریک مومن کی رُوح کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں مگر کافر پر آسمان کے دروازے بند ہوتے ہیں اس لئے اس کی رُوح نیچے شیطان کی طرف پھینک دی جاتی ہے جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں بھی شیطان کی طرف ہی جاتا تھا لیکن مومن اپنی زندگی میں اوپر کی طرف جاتا ہے اس لئے مرنے کے بعد بھی خدا کی طرف اس کا رفع ہوتا ہے اور 33 کی آواز آتی ہے۔ منہ رفع جسمانی کا خیال اُس وقت نصاریٰ کے دل میں پیدا ہوا جبکہ اُن کا ارادہ ہوا کہ حضرت مسیح کو خدا بناویں اور دنیا کا مُنجّی قرار دیں ورنہ نصاریٰ بھی خود اس بات کے قائل ہیں کہ نجات کے لئے تو صرف روحانی رفع کافی ہے۔ پس افسوس کہ جس امر کو نصاریٰ حضرت مسیح کی خدائی کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ان کی ایک خصوصیت ٹھہراتے ہیں وہی امر مسلمانوں نے بھی اپنے عقیدہ میں داخل کر لیا ہے اگر مسلمان یہ جواب دیں کہ ہم تو ادریس کو بھی مسیح کی طرح آسمان پر ......۱؂........ عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہ دوسرا جھوٹ ہے کیونکہ جیسا کہ تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے کہ اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ ادریس آسمان پر زندہ بجسم عنصری نہیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ وہ بھی کسی دن زمین پر مرنے کے لئے آئے گا تو اب خواہ نخواہ رفع جسمانی میں مسیح کی خصوصیت ماننی پڑی اور قبول کرنا پڑا کہ اس کا جسم غیر فانی ہے اور خدا کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور یہ صریح باطل ہے۔ منہ ۱؂ معلوم ہوتا ہے کہ کاتب کی غلطی سے یہاں کچھ لفظ رہ گئے ہیں جو غالبًا ’’رہنے کا ‘‘کے الفاظ ہیں۔ (شمس)