کی موت اور رفع *جسمانی پر یہ دلائل ہیں جو ہم نے بہت بسط سے اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں اور اب تک ہمارے مخالف عدم جواب کی وجہ سے ہمارے مدیون ہیں۔ پھر اس میں اب ہم پیر مہر علی شاہ یا کسی اور پیرصاحب یامولوی صاحب سے کیا بحث کریں۔ ہم تو باطل کو ذبح کر چکے اب ذبح کے بعد کیوں اپنے ذبیحہ پر بے فائدہ چھری پھیریں۔ اے حضرات! ان اُمور میں اب بحثوں کا وقت نہیں۔ اب تو ہمارے مخالفوں کے لئے ڈرنے اور توبہ کرنے کا وقت ہے کیونکہ جہاں تک اس دنیا میں ثبوت ممکن ہے اور جہاں تک حقائق اور دعاوی کو ثابت کیا جاتا ہے اسی طرح ہم نے حضرت مسیح کی موت اور اُن کے رفع روحانی کو ثابت کر دیا ہے۔ 333 ۔۱؂ اب موتِ مسیح کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ مسیح موعود کا اِسی اُمت میں سے آنا کن نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ اور دیگر قرائن سے ثابت ہے۔ سو وہ دلائل ذیل میں بیان کئے جاتے ہیں۔ غور سے سُنو شائد خدائے رحیم ہدایت کرے۔ منجملہ ان دلائل کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو آنے والا مسیح جس کا اِس اُمت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی اُمت میں سے ایک شخص ہوگا بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں امامکم منکم اور امّکم منکم لکھا ہے۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم ہی میں سے ہوگا۔ چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسیٰ کی نسبت ہے اور اسی کی تعریف میں اِس حدیث میں حَکم اور عدل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اسی کے حق میں ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس جگہ منکم کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے اور وہی مخاطب تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اُن میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس لئے منکم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائم مقام صحابہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو اِس آیت مفصّلہ ذیل میں قائم مقام صحابہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ3۲؂ کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ * سہو کاتب معلوم ہوتا ہے لفظ ’’رفع روحانی‘‘ چاہئے۔ (مصحح) ۱؂ یونس:۳۳ ۲؂ الجمعۃ: