اور نہ یہود کا یہ اعتقاد تھا کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو وہ مومن نہیں ہوتا اور ملعون ہوتا ہے اور خدا کی طرف نہیں جاتا بلکہ شیطان کی طرف جاتا ہے۔ خود یہود قائل ہیں کہ حضرت موسیٰ کا رفع جسمانی نہیں ہواحالانکہ وہ حضرت موسیٰ کو تمام اسرائیلی نبیوں سے افضل اور صاحب الشریعت سمجھتے ہیں اب تک یہود زندہ موجود ہیں اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ انہوں نے حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے کیا نتیجہ نکالا تھا؟ کیا یہ کہ اُن کا رفع جسمانی نہیں ہوا یا یہ کہ اُن کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ نعوذ باللہ اوپر کو خدا کی طرف نہیں گئے بلکہ نیچے کو شیطان کی طرف گئے۔ بڑی حماقت انسان کی یہ ہے کہ وہ ایسی بحث شروع کر دے جس کو اصل تنازع سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ بمبئی کلکتہ میں صدہا یہودی رہتے ہیں بعض اہل علم اور اپنے مذہب کے فاضل ہیں اُن سے بذریعہ خط دریافت کرکے پوچھ لو کہ انہوں نے حضرت مسیح پر کیا الزام لگایا تھا اور صلیبی موت کا کیا نتیجہ نکالا تھاکیا عدم رفع جسمانی یا عدم رفع روحانی ۔غرض حضرت مسیح کے رفع کا مسئلہ بھی قرآن شریف میں بے فائدہ اور بغیر کسی محرک کے بیان نہیں کیا گیا بلکہ اِس میں یہود کے اُن خیالات کا ذَبّ اور دفع مقصود ہے جن میں وہ حضرت مسیح کے رفع روحانی کے منکر ہیں۔ بھلا اگر تنزل کے طور پر ہم مان بھی لیں کہ یہ لغو حرکت نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے اپنے لئے پسند کی کہ مسیح کو مع جسم اپنی طرف کھینچ لیا اور اپنے نفس پر جسم اور جسمانی ہونے کا اعتراض بھی وارد کر لیا کیونکہ جسم جسم کی طرف کھینچا جاتا ہے پھر بھی طبعًا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ قرآن شریف یہود اور نصاریٰ کی غلطیوں کی اصلاح کرنے آیا ہے اور یہود نے یہ ایک بڑی غلطی اختیار کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذ باللہ ملعون قرار دیا اور اُن کے رُوحانی رفع سے انکار کیا ۔اور یہ ظاہر کیا کہ وہ مرکر خدا کی طرف نہیں گیاہے بلکہ شیطان کی طرف گیا تو اس الزام کا دَفع اور ذَبّ قرآن میں کہاں ہے جو اصل منصب قرآن کا تھا کیونکہ جس حالت میں آیت 3اور آیت 3جسمانی رفع کیلئے خاص ہو گئیں تو رُوحانی رفع کا بیان کسی اور آیت میں ہونا چاہئے اور یہود اور نصاریٰ کی غلطی دُور کرنے کے لئے کہ جو عقیدہ *** کے متعلق ہے ایسی آیت کی ضرورت ہے کیونکہ جسمانی