ناپاک اور خدا سے پھرا ہوا قرار دے کر ضلالت کی راہ اختیار کی اس لئے ضروری ہوا کہ قرآن بحیثیت حَکَمْ* ہو ؔ نے کے اس امر کا فیصلہ کرے۔ پس یہ آیات بطور فیصلہ ہیں کہ 33 ۱۔ 3۲۔ یعنی یہ سرے سے بات غلط ہے کہ یہودیوں نے بذریعہ صلیب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے اس لئے اس کا نتیجہ بھی غلط ہے کہ حضرت مسیح کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا اورنعوذ باللہ شیطان کی طرف گیا ہے بلکہ خدا نے اپنی طرف اُس کا رفع کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں رفع جسمانی کا کوئی جھگڑا نہ تھا
* حَکَم اور حاکم میں یہ فرق ہے کہ حَکَم کا فیصلہ ناطق ہوتا ہے۔ اس کے بعد کو ئی اپیل نہیں مگر مجرد لفظ حاکم اس مضمون پر حاوی نہیں۔منہ
*** ٹھہرا کر خدا تعالیٰ کا غضب اپنے پر نازل کیا اور مغضوب علیھم ٹھہرے حالانکہ اُن کو پتہ بھی لگ گیا تھا کہ حضرت مسیح قبر میں نہیں رہے اور وہ پیشگوئی اُن کی پوری ہوئی کہ یونس کی طرح میرا حال ہوگا یعنی زندہ ہی قبر میں جاؤں گا اور زندہ ہی نکلوں گا۔ اور نصاریٰ گو حضرت مسیح سے محبت کرتے تھے مگر محض اپنی جہالت سے انہوں نے بھی *** کا داغ حضرت مسیح کے دل کی نسبت قبول کر لیا اور یہ نہ سمجھا کہ *** کا مفہوم دل کی ناپاکی سے تعلق رکھتا ہے اور نبی کا دل کسی حالت میں ناپاک اور خدا کا دشمن اور اس سے بیزار نہیں ہو سکتا۔ پس اس سورۃ میں بطور اشارت مسلمانوں کو یہ سکھلایا گیا ہے کہ یہود کی طرح آنے والے مسیح موعود کی تکذیب میں جلدی نہ کریں اور حیلہ بازی کے فتوے طیار نہ کریں اور اس کا نام *** نہ رکھیں۔ ورنہ وہی *** اُلٹ کر اُن پر پڑے گی۔ ایسا ہی عیسائیوں کی طرح نادان دوست نہ بنیں اورناجائز صفات اپنے پیشوا کی طرف منسوب نہ کریں پس بلا شبہ اس سورۃ میں مخفی طور پر میرا ذکر ہے اور ایک لطیف پیرایہ میں میری نسبت یہ ایک پیشگوئی ہے اور دُعا کے رنگ میں مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ایسا زمانہ تم پر بھی آئے گا اور تم بھی حیلہ جوئی سے مسیح موعود کو *** ٹھہراؤ گے کیونکہ یہ بھی حدیث ہے کہ اگریہودی سو سمار کے سوراخ میں داخل ہوئے ہیں تو مسلمان بھی داخل ہوں گے۔ یہ عجیب خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ قرآن شریف کی پہلی سورۃ میں ہی جس کو پنج وقت مسلمان پڑھتے ہیں میرے آنے کی نسبت پیشگوئی کردی۔ فالحمدللّٰہ علٰی ذالک۔ منہ