قتل کئے گئے کیونکہ جس طرز سے حضرت مسیح صلیب سے بچائے گئے تھے اور پھر مرہم عیسیٰ سے زخم اچھے کئے گئے تھے اور پھر پوشیدہ طور پر سفر کیا گیا تھا یہ تمام امور یہودیوں کی نظر سے پوشیدہ تھے۔ ہاں حواریوں کو اس راز کی خبر تھی اور گلیل کی راہ میں حواری حضرت مسیح سے ایک گاؤں میں اکٹھے ہی رات رہے تھے اور مچھلی بھی کھائی تھی باایں ہمہ جیسا کہ انجیل سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے حواریوں کو حضرت مسیح نے تاکید سے منع کر دیا تھا کہ میرے اس سفر کا حال کسی کے پاس مت کہو سو حضرت مسیح کی یہی وصیت تھی کہ اس راز کو پوشیدہ رکھنا اور کیا مجال تھی کہ وہ اس خبر کو افشا کرکے نبی کے راز اور امانت میں خیانت کرتے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت مسیح کا نام سیاحت کرنے والا نبی رکھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ حضرت مسیح نے اکثر حصہ دنیا کا سیر کیا ہے اور یہ حدیث کتاب کنزالعمال میں موجود ہے اور اسی بنا پر لُغتِ عرب کی کتابوں میں مسیح کی وجہ تسمیہ بہت سیاحت کرنے والا بھی لکھا ہے۔* غرض یہ قولِ نبوی
* دیکھو لسان العرب مسح کے لفظ میں۔ منہ
فرمایا ہے اور کہا کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں مگر افسوس کہ ہمارے مخالفین اس بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ حضرت مسیح نے کب اور کس ملک کی طرف ہجرت کی بلکہ زیادہ تر تعجب اِس بات سے ہے کہ وہ اس بات کو تو مانتے ہیں کہ احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح نے مختلف ملکوں کی بہت سیاحت کی ہے بلکہ ایک وجہ تسمیہ اسم مسیح کی یہ بھی لکھتے ہیں لیکن جب کہا جائے کہ وہ کشمیر میں بھی گئے تھے تو اس سے انکار کرتے ہیں حا لانکہ جس حالت میں انہوں نے مان لیا کہ حضرت مسیح نے اپنے نبوت کے ہی زمانہ میں بہت سے ملکوں کی سیاحت بھی کی تو کیا وجہ کہ کشمیر جانا اُن پر حرام تھا؟ کیا ممکن نہیں کہ کشمیر میں بھی گئے ہوں اور وہیں وفات پائی ہو اور پھر جب صلیبی واقعہ کے بعد ہمیشہ زمین پر سیاحت کرتے رہے تو آسمان پر کب گئے؟ اس کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے۔منہ