ہ بات قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے پھر کام بن جائے گا۔ کیونکہ توریت میں لکھا ہے کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے وہ *** ہے یعنی وہ شیطان کی طرف جاتا ہے نہ خدا کی طرف۔ سو یہودی لوگ اس تدبیر میں لگے رہے اور جو شخص اس ملک کا حاکم قیصر روم کی طرف سے تھا اور بادشاہ کی طرح قائم مقام قیصر تھا اس کے حضور میں جھوٹی مخبریاں کرتے رہے کہ یہ شخص درپر دہ گورنمنٹ کا بد خواہ ہے۔ آخر گورنمنٹ نے مذہبی فتنہ اندازی کے بہانہ سے پکڑ ہی لیا مگر چاہا کہ کچھ تنبیہ کرکے چھوڑ دیں مگر یہود صرف اس قدر پر کب راضی تھے۔ انہوں نے شور مچایا کہ اِس نے سخت کفر بکا ہے قوم میں بلواہو جائے گا مفسدہ کا اندیشہ ہے اس کو ضرور صلیب ملنی چاہئے۔ سو رومی گورنمنٹ نے یہودیوں کے بلوہ سے اندیشہ کرکے اور کچھ مصلحت ملکی کو سوچ کر حضرت مسیح کو اُن کے حوالہ کر دیا کہ اپنے مذہب کے رو سے جو چاہو کرو اور پیلا طوس گورنر قیصر جس کے ہاتھ میں یہ سب کارروائی تھی اس کی بیوی کو خواب آئی کہ اگر یہ شخص مر گیا تو پھر اس میں تمہاری تباہی ہے۔ اِس لئے اس نے اندرونی طور پر پوشیدہ کوشش کرکے مسیح کو صلیبی موت سے بچا لیا مگر یہود اپنی حماقت سے یہی سمجھتے رہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا۔ حالانکہ حضرت مسیح خدا تعالیٰ کا حکم پا کر جیسا کہ کنز العمال کی حدیث میں ہے اس ملک سے نکل گئے اور وہ تاریخی ثبوت جو ہمیں ملے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ نصیبین سے ہوتے ہوئے پشاور کی راہ سے پنجاب میں پہنچے اور چونکہ سرد ملک کے باشندے تھے اس لئے اس ملک کی شدّت گرمی کا تحمل نہ کر سکے لہٰذا کشمیر میں پہنچ گئے اور سری نگر کوؔ اپنے وجود باجود سے شرف بخشا اور کیا تعجب کہ انہی کے زمانہ میں یہ شہر آباد بھی ہوا ہو۔ بہر حال سری نگرکی زمین مسیح کے قدم رکھنے کی جگہ ہے۔ غرض حضرت مسیح تو سیاحت کرتے کرتے کشمیر پہنچ گئے ۔* لیکن یہودی اسی زعم باطل میں گرفتار رہے کہ گویا حضرت مسیح بذریعہ صلیب ہر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے اور مسیح نے بھی اپنی ہجرت کی طرف انجیل میں اشارہ