کہ مسیح سیاح نبی ہے تمام سربستہ راز کی کُنجی تھی اور اسی ایک لفظ سے آسمان پر جانا اور اب تک زندہ ہونا سب باطل ہوتا تھا مگر اس پر غور نہیں کی گئی۔ اور اس بات پر غور کرنے سے واضح ہوگا کہ جبکہ عیسیٰ مسیح نے زمانۂ نبوت میں یہودیوں کے ملک سے ہجرت کرکے ایک زمانہ دراز اپنی عمر کا سیاحت میں گذارا تو آسمان پر کس زمانہ میں اُٹھائے گئے اور پھر اتنی مدت کے بعد ضرورت کیا پیش آئی تھی؟ عجیب بات ہے یہ لوگ کیسے پیچ میں پھنس گئے ایک طرف یہ اعتقاد ہے کہ صلیبی فتنہ کے وقت کوئی اور شخص سولی مل گیا اور حضرت مسیح بلا توقف دوسرے آسمان پر جا بیٹھے اور دوسری طرف یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ صلیبی حادثہ کے بعد وہ اسی دنیا میں سیاحت کرتے رہے اور بہت سا حصہ عمر کا سیاحت میں گذارا۔ عجب اندھیر ہے کوئی سوؔ چتا نہیں کہ پیلاطوس کے ملک میں رہنے کا زمانہ تو بالا تفاق ساڑھے تین برس تھا ۔اور دُور دراز ملکوں کے یہودیوں کو بھی دعوت کرنا مسیح کا ایک فرض تھا۔ پھر وہ اس فرض کو چھوڑ کر آسمان پر کیوں چلے گئے کیوں ہجرت کرکے بطور سیاحت اس فرض کو پورا نہ کیا؟ عجیب ترامر یہ ہے کہ حدیثوں میں جو کنزالعمال میں ہیں اسی بات کی تصریح موجود ہے کہ یہ سیرو سیاحت اکثر ملکوں کا حضرت مسیح نے صلیبی فتنہ کے بعد ہی کیا ہے اور یہی معقول بھی ہے کیونکہ ہجرت انبیاء علیہم السلام میں سنّت الٰہی یہی ہے کہ وہ جب تک نکالے نہ جائیں ہر گز نہیں نکلتے اور بالاتفاق مانا گیا ہے کہ نکا لنے یا قتل کرنے کا وقت صرف فتنۂ صلیب کا وقت تھا۔ غرض یہودیوں نے بوجہ صلیبی موت کے جو اُن کے خیال میں تھی حضرت مسیح کی نسبت یہ نتیجہ نکالا کہ وہ نعوذ باللہ ملعون ہو کر شیطان کی طرف گئے نہ خدا کی طرف۔ اور اُن کا رفع خدا کی طرف نہیں ہوا بلکہ شیطان کی طرف ہبوط ہوا۔ کیونکہ شریعت نے دو طرفوں کو مانا ہے۔ ایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقامِ انتہائے عرش ہے اور دوسری شیطان کی اور وہ بہت نیچی ہے اور اس کا انتہا زمین کا پاتال ہے۔ غرض یہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ مومن مرکر خدا کی طرف جاتا ہے۔ اور اُس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں جیسا کہ آیت 33 ۱؂ اس کی شاہدہے اور کافر نیچے کی طرف جو شیطان کی طرف ہے