کہ وہ مسیح میں ہوں اور میں ہی داؤد کے تخت کو دوبارہ قائم کروں گا۔ سو یہودی اس کلمہ سے اوائل حال میں بہت خوش ہوئے اور صدہا عوام الناس بادشاہت کی اُمید سے آپ کے معتقد ہو گئے اور بڑے بڑے تاجر اور رئیس بیعت میں داخل ہوئے لیکن کچھ تھوڑے دنوں کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ظاہر کر دیا کہ ؔ میری بادشاہت اِس دنیا کی نہیں ہے اور میری بادشاہت آسمان کی ہے۔ تب اُن کی وہ سب اُمیدیں خا ک میں مل گئیں اور ان کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص دوبارہ تخت داؤد کو قائم نہیں کرے گابلکہ وہ کوئی اور ہوگا۔ پس اسی دن سے بغض اور کینہ ترقی ہونا شروع ہوا اور ایک جماعت کثیر مرتد ہو گئی پس ایک تویہی وجہ یہودیوں کے ہاتھ میں تھی کہ یہ شخص نبیوں کی پیشگوئی کے موافق بادشاہ ہو کر نہیں آیا۔ پھر کتابوں پر غور کرنے سے ایک اور وجہ یہ بھی پیدا ہوئی کہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا تھا کہ مسیح بادشاہ جس کی یہودیوں کو انتظا ر تھی وہ نہیں آئے گا جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آئے چنانچہ انہوں نے یہ عذر حضرت مسیح کے سامنے پیش بھی کیا لیکن آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس جگہ ایلیا سے مراد مثیل ایلیا ہے یعنی یحییٰ۔ افسوس کہ اگر جیسا کہ اُن کی نسبت احیاءِ موتٰی کا گمان باطل کیا جاتا ہے وہ حضرت ایلیا کو زندہ کرکے دکھلا دیتے تو اس قدر جھگڑا نہ پڑتا اور نص کے ظاہری الفاظ کی رُو سے حجت پوری ہو جاتی۔ غرض یہودی اُن کے بادشاہ نہ ہونے کی وجہ سے اُن کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے اور ملا کی نبی کی کتاب کی رو سے یہ دوسرا شک پیدا ہوا پھر کیا تھا سب کے سب تکفیر اور گالیوں پر آگئے اور یہودیوں کے علماء نے اُن کے لئے ایک کُفر کا فتویٰ طیّار کیا اور ملک کے تمام علماءِ کرام اور صوفیہ عظام نے اس فتوے پر اتفاق کر لیا اور مہریں لگادیں مگر پھر بھی بعض عوام الناس میں سے جو تھوڑے ہی آدمی تھے حضرت مسیح کے ساتھ رہ گئے۔ اُن میں سے بھی یہودیوں نے ایک کو کچھ رشوت دے کر اپنی طرف پھیر لیا اور دن رات یہ مشورے ہونے لگے کہ توریت کے نصوصِ صریحہ سے اس شخص کو کافر ٹھہرانا چاہئے تا عوام بھی یکدفعہ بیزار ہو جائیں اور اس کے بعض نشانوں کو دیکھ کر دھوکا نہ کھاویں۔ چنانچہ