مسیح کو مع جسم کے آسمان پر اُٹھالیابھلا اس کارروائی سے حاصل کیا ہوا اور اس سے کونسا الزام یہودیوں پر آیا اور آسمان پر مع جسم کیوں پہنچایا گیا۔ کس ضرورت نے حکیم مطلق سے یہ فعل کرایا؟ اگر قتل سے بچانا تھا تو خدا تعالیٰ زمین پر بھی بچا سکتا تھا۔* جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غارِ ثور میں کفار کے قتل سے بچا لیا۔ اب اگر آہستگی اور تحمل سے سنو تو ہم بتلاتے ہیں کہ اس تمام جھگڑے کی اصلیت کیا ہے؟ بزرگو! خدا تم پر رحم کرے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں کو غور سے دیکھنے اور اُن کے تاریخی واقعات پر نظر ڈالنے سے جو تواترکے اعلیٰ درجہ پر پہنچے ہوئے ہیں جن سے کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا یہ حال معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اوائل حال میں تو بے شک یہودی ایک مسیح کے منتظر تھے تا وہ ان کو غیر قوموں کی حکومت سے نجات بخشے اور جیسا کہ ان کی کتابوں کی پیشگوئیوں کے ظاہر الفاظ سے سمجھا جاتا ہے داؤد کے تخت کو اپنی بادشاہی سے پھر قائم کرے چنانچہ اس انتظار کے زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام نے دعویٰ کیا
* اگر آسمان پر پہنچانے سے یہ غرض تھی کہ وہ بہشت میں پہنچ جائیں اور لذّات اُخروی سے حظ اُٹھاویں تو وہ غرض بھی تو پوری نہیں ہوئی کیونکہ اُخروی لذّات سے حظّ اٹھانے کے لئے اول مرنا ضروری ہے تو گویا اس جہان کے اغراض سے بھی جس کے لئے بھیجے گئے تھے ناکام رہے۔ اور وہ اصلاح جو اصل مقصود تھی وہ نہ کر سکے اور قوم ضلالت سے بھر گئی اور آسمان پر جاکر بھی کچھ لذّت اور راحت نہ اٹھائی۔ آپ آسمان پر بے فائدہ بیٹھے ہیں نہ اُس مقام پر ڈیرہ لگانے سے اپنے نفس کو کچھ فائدہ اور نہ امت کو کچھ نفع۔ کیا انبیاء علیہم السلام کی طرف جو دنیا کی اصلاح کرکے پھر خدا کو جا ملتے ہیں ایسے امور منسوب ہو سکتے ہیں؟ اوّل یہ تو سوچنا چاہئے کہ رفع الی اللّٰہ جو جامع لذاتِ اُخروی ہے بغیر موت کے کب ممکن ہے۔ یہ تخلف وعدہ کیسا ہوا؟ کہ رفع الی للّٰہ کا وعدہ کیا گیا اور پھر بٹھایا گیا دوسرے آسمان پر۔ کیا خدا دوسرے آسمان پر ہے؟ اور کیا حضرت ابراہیم اور موسیٰ خدا سے اوپر رہتے ہیں؟ منہ