کا بخوبی فیصلہ ہو چکا ہے اور اب ایسے ایسے بے ہودہ عذر کرنا اُس غرق ہونے والے کی مانند ہے جو موت سے بچنے کے لئے گھاس پات کو ہاتھ مارتا ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ نیک نیتی سے سیدھی راہ کو نہیں سوچتے۔ اس بحث میں سبؔ سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ حضرت مسیح کچھ انوکھے رسول نہیں تھے اُن کے قتل کے بارے میں اس قدر جھگڑا کیوں برپا کیا گیا اور کیوں بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اُٹھا لیا نہ شیطان کی طرف اگر اس جھگڑے سے صرف اس قدر غرض تھی کہ یہودیوں پر ظاہر کیا جائے کہ وہ قتل نہیں ہوئے تو یہ تو ایک بیہودہ اور سراسر لغو غرض ہے اس غرض کو اس رفع اعتراض سے کیا تعلق کہ خدا نے مسیح کو اپنی طرف جو مقامِ اعزاز ہے اُٹھا لیا شیطان کی طرف ردّ نہیں کیا جو مقامِ ذلّت ہے۔ ظاہر ہے کہ محض قتل ہونے سے نبی کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا میں یہ بات داخل ہے کہ مَیں دوست رکھتا ہوں کہ خدا کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں تو پھر یہ بات قبول کے لائق ہے کہ قتل ہونے میں کوئی ہتک عزت نہیں ۔ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے یہ دُعا نہ کرتے تو پھر اس قدر حضرت مسیح کی نسبت الزام قتل کا دفع اور ذَبّ اور یہ کہنا کہ وہ قتل نہیں ہوا اور ہرگز صلیب سے قتل نہیں ہوا بلکہ ہم نے اپنی طرف اُٹھا لیا اس سے مطلب کیا نکلا اگر مسیح قتل نہیں ہوا تو کیا یحییٰ نبی بھی قتل نہیں ہوا اُس کو خدا نے کیوں اپنی طرف مع جسم عنصری نہ اٹھایا۔ کیا وجہ کہ اِس جگہ غیرت الٰہی نے جوش نہ مارا اور اُس جگہ جوش مارا اور اگر خدا نے کسی کو جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھانا ہے تو اُس کے لئے تو یہ الفاظ چاہئیں کہ جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھایا گیا نہ یہ کہ خدا کی طرف اُٹھایا گیا۔ یاد رہے کہ قرآن شریف بلکہ تمام آسمانی کتابوں نے دو۲ طرفیں مقرر کی ہیں ایک خدا کی طرف اور اس کی نسبت یہ محاورہ ہے کہ فلاں شخص خدا کی طرف اُٹھایا گیا۔ اور دوسری طرف بمقابل خدا کی طرف کے شیطان کی طرف ہے۔ اس کی نسبت قرآن میں 3 ۱ کا محاورہ ہے۔ یہ کس قدر ظلم ہے کہ رفع الی اللّٰہ جو ایک روحانی امر اخلاد الی الشیطان کے مقابل پر تھا اس سے آسمان پر مع جسم جانا سمجھا گیا اور خیال کیا گیا کہ خدا نے