زمین کی طرف جُھک گیا۔ ظاہر ہے کہ مسیح کیلئے جو لفظ رفع میں استعمال کئے گئے وہی لفظ بلعم کی نسبت استعمال کئے گئے۔ مگر کیا خدا کا ارادہ تھا کہ بلعم کو مع جسم آسمان پر پہنچا دے بلکہ صرف اُس کی رُوح کا رفع مراد تھا۔ اے حضرات! خدا سے خوف کرو۔ رفع جسمانی تو یہودیوں کے الزام میں معرض بحث میں ہی نہیں تمام جھگڑا تو رفع روحانی کے متعلق ہے کیونکہ یہود نے حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر بموجب نص توریت کے یہ خیال کر لیا تھا کہ اب اس کا رفع روحانی نہیں ہوگا اور وہ نعوذ باللہ خدا کی طرف نہیں جائے گا بلکہ ملعون ہو کر شیطان کی طرف جائیگایہ ایک اصطلاحی لفظ ہے کہ جو شخص خدا کی طرف بلایا جاتا ہے اس کو مرفوع کہتے ہیں اور جو شیطان کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اس کو ملعون کہتے ہیں سو یہی وہ یہودیوں کی غلطی تھی جس کا قرآن شریف نے بحیثیت حَکَمْ ہونے کے فیصلہ کیا اور فرمایا کہ مسیح صلیب پر قتل نہیں کیا گیا اور فعل صلیب پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچا اس لئے مسیح رفع روحانی سے محروم نہیں ہو سکتا۔ علاوہ اِس کے صاف ظاہر ہے کہ علم طبعی کی رو سے جس کے مسائل مشہودہ محسوسہ ہیں ہمیشہ جسم معرضِ تحلیل وتبدیل میں ہے ہر آن اور ہر سیکنڈ میں ذرّاتِ جسم بدلتے رہتے ہیں جو اس وقت ہیں وہ ایک منٹ کے بعد نہیں۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ جس جسم کے رفع کا آیت 3 میں وعدہ ہوا تھا وہی جسم زمانہ آیت33تک موجود تھا۔ پس لازم آیا کہ جو وعدہ 3 3میں ایک خاص جسم کی نسبت دیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا کیونکہ ایفاءِ وعدہ کے وقت تو اَور جسم تھا اور پہلا جسم تحلیل پا چکا تھا۔ اور خود یہ خیال غلط ہے کہ جب کسی کو مخاطب کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ یا ابراہیم اور یا عیسیٰ اور یا موسیٰ اور یا محمد (علیہم السلام) تو اس کے ساتھ معیّت جسم شرط ہوتی ہے اور کچھ حصہ خطاب کا جسم کے ساتھ بھی متعلق ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اگر مثلاً ایک نبی کا ہاتھ کٹ جائے پا پیر کٹ جائے تو پھر اس لائق نہ رہے کہ یا عیسیٰ یا یا موسیٰ اس کو کہا جائے کیونکہ ایک حصہ جسم کا جس کو خطاب کیا گیا ہے اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے مُردہ انبیاء کا قرآن شریف میں ذکر اسی طرح کیا ہے جیسے اس حالت میں ذکر کیا تھا جبکہ وہ جسم کے ساتھ زندہ تھے پس اگر ایسے خطاب کے لئے جسم کی شرط ہے تو مثلاً یہ کہنا کیونکر جائز ہے کہ 3 ۱۔ غرض حضرت مسیح علیہ السلام کی موت