کی طرف سے آیا تھا۔ نام اس کا یوزہے۔ پھر وہ کتبہ سکھوں کے عہد میں محض تعصب اور عناد سے مٹایا گیا اب وہ الفاظ اچھی طرح پڑھے نہیں جاتے۔ اور وہ قبر بنی اسرائیل کی قبروں کی طرح ہے اور بیت المقدس کی طرف مُنہ ہے اور قریبًا سرینگر کے پانسو آدمی نے اس محضرنامہ پر بدیں مضمون دستخط اور مہریں لگائیں کہ کشمیر کی پُرانی تاریخ سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا اور شہزادہ کہلاتا تھا کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر میں آگیا تھا اور بہت بڈھا ہو کر فوت ہوا اور اُس کو عیسیٰ صاحب بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی بھی اور یوز آسف بھی۔ اب بتلاؤ کہ اس قدر تحقیقات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے میں کسر کیا رہ گئی اور اگر باوجود اس بات کے کہ اتنی شہادتیں قرآن اور حدیث اور اجماع اور تاریخ اور نسخہ مرہم عیسیٰ اور وجود قبرسرینگر میں اور معراج میں بزمرۂ اموات دیکھے جانا اور عمر ایک سو بیس سال مقرر ہونا اور حدیث سے ثابت ہونا کہ واقعہ صلیب کے بعد وہ کسی اور ملک کی طرف چلے گئے تھے اور اسی سیاحت کی وجہ سے اُن کا نام نبی سیاح مشہور تھا۔ یہ تمام شہادتیں اگر ان کے مرنے کو ثابت نہیں کرتیں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نبی بھی فوت نہیں ہوا۔ سب بجسم عنصری آسمان پر جا بیٹھے ہیں کیونکہ اس قدر شہادتیں اُن کی موت پر ہمارے پاس موجود نہیں بلکہ حضرت موسیٰ کی موت خود مشتبہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ اُن کی زندگی پر یہ آیت قرآؔ نی گواہ ہے یعنی یہ کہ3 ۱۔ اور ایک حدیث بھی گواہ ہے کہ موسیٰ ہر سال دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کے حج کرنے کو آتا ہے۔ اے بزرگو! اب اس ماتم سے کچھ فائدہ نہیں۔ اب تو حضرت مسیح پر اِنَّالِلّٰہِ پڑھو وہ تو بیشک فوت ہو گئے وہ حدیث صحیح نکلی کہ مسیح کی عمر ایک سوبیس برس ہوگی نہ ہزاروں برس اب خدا سے ڈرنے کا وقت ہے کج بحثی کا وقت نہیں کیونکہ ثبوت انتہا تک پہنچ گیا ہے اور یہ خیال کہ قرآن شریف میں اُن کی نسبت 3۲ آیا ہے اور بَلْ دلالت کرتا ہے کہ وہ مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے۔ یہ خیال نہایت ذلیل خیال اور بچوں کا ساخیال ہے۔ اس قسم کا رفع تو بلعم کی نسبت بھی مذکور ہے یعنی لکھا ہے کہ ہم نے ارادہ کیا تھا کہ بلعم کا رفع کریں مگر وہ