و ارق الکرٰی ۔ الا ترون الٰی زمنٍ بعثت فیہ بیدار مے شوند آیا نمے بینید سوئے ایں زمانہ کہ درو مبعوث شدم بیدار ہونا چاہتے ہیں۔ کیا تم اس زمانہ کو جس میں میں مبعوث ہوا نہیں دیکھتے کہ وقد جئتکم بعد رسول اللّٰہ المصطفٰی ۔ الٰی کہ من بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اتنی ہی مدت میں آیا ہوں جو مدت امدٍ کان بین موسٰی وعیسٰی ۔ وان فی ذٰالک دراں قدر مدت آمدہ ام کہ آں مدت در موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام است یعنی چہار دہ صد سال۔ و دریں موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام میں چودہ سو سال کی تھی اس میں عقلمندوں کے لئے لاٰیۃً لاولی النھٰی۔ فانظروا کیف اجتمعت نشانے است برائے عقلمنداں پس بہ بینید کہ چگونہ خدا نشانہا ایک نشان ہے۔ دیکھو کہ خدا نے کیونکر بہت سے الاٰیات من اللّٰہ ذی المجد والعلٰی۔ فکُسف القمر جمع کردہ است وچگونہ کسوف ماہ نشان جمع کر دیئے اور کیونکر چاند و والشمس فی شھر الصیام وترک القلاص فلا وآفتاب در رمضان شد و شتراں از سواری سورج کا گرہن رمضان میں ہوا اور اونٹ کی سواری یُحمل علیھا ولا تُمْتطٰی۔ ومعھا اٰیاتٌ اخرٰی ۔ معطل کردہ شدند و دیگر نشانہا نیز ہستند۔ بے کار ہوئی اور ان کے سوا اور بھی نشانات ہیں