بکتاب اللّٰہ وھو بحرٌ من المعارف وماءٌ کتاب الٰہی مے کنید و آں دریائیست از معارف وآبے است کتاب اللہ سے انکار کرتے ہو جو معارف کا دریا اور صاف و شفاف اصفٰی ۔ وکیف اِسْتَطَبْتُم ان تترکوا الفرقان نہایت صاف و شفاف۔ وچگونہ خوش آمد شمارا کہ قرآن شریف را پانی ہے اور تمہیں کیونکر یہ بات پسند آگئی کہ قرآن شریف کو الحمید لاقوالٍ شتّٰی ۔ اتستبدلون الذی ھو برائے آں قولہا می گذاریدکہ متفرق وبے سروپا ہستند۔آیا ادنیٰ را ان اقوال کے بدلے چھوڑتے ہو جو بے سروپا اور متفرق ہیں اور ادنیٰ کو ادنٰی بالذی ھو خیرٌ و انّ الظنّ لایغنی من بعوض اعلیٰ ترک می کنید و ظن از حق اعلیٰ کے عوض میں ترک کرتے ہو اور ظن حق سے کسی طرح مستغنی الحقّ شیءًا ۔ وقد جمع الشمس والقمر کما ہیچ مستغنی نمی کند و جمع کردہ شد آفتاب و ماہ ہمچناں کہ نہیں کرتا اور چاند اور سورج جمع کئے گئے جیسا کہ ذکر القراٰن وکسفا فی رمضان کشق القمر ذکر آں در قرآن شریف آمدہ است و ہر دو را در رمضان کسوف گرفت ہمچو شق القمر قرآن شریف میں ذکر آیا ہے اور دونوں کا رمضان شریف میں کسوف و خسوف ہوگیا جیسے کہ پیغمبر خدا فی زمن خیر الورٰی۔ وعطلت العشار لمن یّرٰی۔ در زمانہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ومعطل کردہ شدند شتراں صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شق القمر ہوا اونٹ بے کار کئے گئے