ابن مریم منکم علٰی اجلٍ یشابہ اجلًا مضٰی۔ عیسٰی علیہ السلام از ہمیں امت آمدہ باشد و زمانہ او زمانہ حضرت مسیح را مشابہ باشد اس امت میں سے آیا ہو اور اس کا زمانہ اور حضرت مسیح کا زمانہ مشابہ ہو وقد انقضت مدۃٌ من نبیّنا الٰی یوم بعثنا وبہ تحقیق از زمانہ پیغمبر ما صلی اللہ علیہ وسلم تا ایں وقت اور یہ تحقیق ہو چکا ہے کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اس وقت تک وہی ھٰذا ۔کمثل مدۃٍ کانت بین موسٰی وعیسٰی۔ آں مدت گذشتہ است کہ در زمانہ موسیٰ علیہ السلام و عیسٰی علیہ السلام بود مدت گذری ہے کہ جو مدت زمانہ موسیٰ علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک گذری تھی وان فی ذالک لاٰیۃً لقومٍ یطلبون الھدٰی۔ و دریں اشارت است آناں را کہ ہدایت مے طلبند اور اس میں ہدایت طلب کرنے والوں کے لئے اشارہ ہے۔ فما لکم لم تنتظرون نزول المسیح من السماء۔ پس چہ شد شمارا کہ انتظار مسیح از آسمان مے کنید تمہیں کیا ہوگیا کہ تم مسیح کا انتظار سے کررہے ہو انسیتم ماتقرء ون فی القراٰن او رضیتم آیا فراموش کردہ اید آنچہ در قرآن شریف مے خوانید یا بدیں امر راضی شدہ اید اور تم نے جو قرآن شریف میں پڑھا ہے اس کو بھولتے ہو کیا اس بات پر راضی ہوگئے بتکذیب کلام ربّکم الاعلٰی ۔ ا تکفرون کہ تکذیب کلام الٰہی کنید آیا انکار کہ کلام الٰہی کی تکذیب ہو تم اس