علی الابصار غشاوۃٌ فما یرون ماطلع وتجلّٰی۔
بر چشم ہائے ایشاں پردہ است پس نمے بینند آنچہ طلوع کرد و تجلی نمود
ان کی آنکھوں پرپردہ ہے جو وہ اس تجلی کی طرف جو طلوع ہوئی ہے نظر نہیں کرتے
ومنھم قومٌ اُعطوا علمًا ثم یمرّون کالذی
و از ایشاں قومے است کہ اوشاں را اند کے علم دادہ شد باز ہمچو کسے مے گذرند
اور ان میں ایک قوم ہے جس کو علم تھوڑا سا دیا گیا ہے تسپر بھی اعراض و انکار ہی کرتے ہیں
اعرض وابٰی ۔ ولئن سألتھم ما وعد اللّٰہ ربّکم
کہ اعراض و انکار می کنند و اگر پرسیدہ شود از ایشاں کہ خدائے شماچہ وعدہ کردہ است
اگر ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے خدا نے کیا وعدہ فرمایا ہے
الاعلٰی ۔ لیقولن انہٗ وعد المؤمنین ان یستخلف
البتہ مے گویند کہ او مومنان را ایں وعدہ دادہ است کہ ہم ازیشاں خلیفہ ہا
تو اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہاں خدا نے یہ وعدہ مومنوں سے ضرور کیا ہے کہ ان میں
منھم کما استخلف من قوم موسٰی ۔ فقد اقرّوا
پیدا خواہد کرد ہمچو آں خلیفہ ہا کہ از قوم موسیٰ علیہ السلام پیدا کردہ بود پس بمشابہت
خلیفے پیدا کئے جاویں گے ان خلیفوں کی مانند جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں خلیفے پیدا کئے تھے۔ پس دونوں
بتشابہ السلسلتین ثم ینکرون کبصیرٍ تعامٰی۔
ہر دو سلسلہ اقرار کردہ اند باز ہمچو کسے انکار مے کنند کہ بینا باشد و خودرا نابینا نماید
سلسلوں کی مشابہت کا اقرار کرتے ہیں پھر ایسے شخص کی طرح انکار کر بیٹھے ہیں کہ وہ سوجا کھا ہو اور اپنے
ولمّا کان نبینا مثیل موسٰی ۔ وکان سلسلۃ
وہرگاہ نبی ما صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ بود وسلسلہ خلفائے او
آپ کو اندھا بنالے اور جس حالت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ٹھہرے اور نیز سلسلہ خلفاء