ومانھٰی ۔ واذا قیل لھم اٰمنوا بما وعداللّٰہ و
نہ مے کنند و چوں گفتہ شود ایشاں را کہ ایمان آرید بوعدہ الٰہی و
کچھ پروا نہیں کرتے جب ان کو کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدہ پر ایمان لاؤ اور
لا تنسوا نصیبکم من رحمۃٍ تُرْجٰی ۔ قالوا لاندری
نصیب خود از رحمتے کہ امید داشتہ شدہ فراموش نہ کنید میگویند کہ ما نمی دانیم کہ
جس رحمت کے تم امیدوار ہو اس میں سے اپنا حصہ نہ گنواؤ تو کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے
ما الوعد ط وطبع علٰی قلوبھم فلا یسمع احدٌ
وعدہ چہ باشد و بردل ایشاں مہر کردہ شدہ پس ہیچ کس از
کہ وعدہ کیا ہوتا ہے اور ان کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے کوئی بھی ان میں سے نہیں دیکھتا
منھم ولایریٰ ۔ ولا یقبلون الحق وقد اٰتینا
ازیشاں نمی شنود ونمی بیند و قبول نمی کنند حق را وحالانکہ دادیم
اور نہیں سنتا اور حق کو قبول نہیں کرتا حالانکہ ہم نے
الدلائل کدرٍ ابھٰی ۔ الا ینظرون الی القراٰن او
ایشاں را دلائل ہمچو گوہرہائے روشن آیا نمے بینند سوئے قرآن یا
چمکدار موتیوں کی طرح ان کو دلائل دیئے۔ کیا قرآن کی طرف نہیں دیکھتے یا
مختلفۃٌ فی ھٰذا وفی ذالک فلذالک اختلف طریق التولید
دریں ہر دو پیدائش اغراض مختلف ہستند۔ پس برائے ہمیں در طریق تولید
ان دونوں پیدائشوں میں مختلف اغراض ہیں۔ اس لحاظ سے طریق ولادت میں
من حضرۃ الکبریاء ۔ منہ
اختلاف است ۔ منہ
اختلاف واقع ہوا ہے۔ منہ