کالذین یقرء ون القراٰن ومایبالون ما امر القراٰن کہ قرآن می خوانند وہیچ پر وائے امر و نہی او کہ قرآن شریف پڑھتے ہیں اور اس کے امر ونہی کی السبعیۃ۔ ثم اعلم ان تولد عیسی ابن مریم من غیرابٍ نیز یافتہ شوند۔ باز بداں کہ پیدائش حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیرپدر اس میں ہوں پھر جان تو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بے باپ پیدا ہونا من بنی اسرائیل بھٰذ الطریق۔ تنبیہٌ للیھود وعلمٌ لساعتھم از بنی اسرائیل بدیں طریق تنبیہ است برائے یہود و دلیل است برائے بنی اسرائیل میں سے یہود کے لئے ایک تنبیہ ہے اور ان کے زوال واشارۃٌ الٰی ان النبوۃ مُنْتَزَعٌ منھم بالتحقیق۔ واما مسیح ساعت زوال ایشاں و اشارہ است سوئے ایں کہ نبوت بالتحقیق از ایشاں منتقل خواہد شد۔ مگر کی گھڑی پر ایک دلیل ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرور نبوت ان سے منتقل ہو جائیگی ھٰذہ الامۃ فولد توأمًا من ذکرٍ و انثٰی وفُرّق بینہٗ و مسیح ایں امت از ذکر و انثٰی توام زادہ شد وعلیحدہ کردہ شد مادۂ انثیت ازو مگر اس امت کا مسیح مذکر و مؤنث سے توام پیدا ہوا ہے اور مادۂ انثیت اس سے علیٰحدہ بین مادۃ النساء ۔ وفی ذالک اشارۃٌ الٰی ان اللّٰہ یبث بہٖ و دریں اشارت است سوئے ایں معنٰی کہ خدا تعالیٰ بسیار کس کر دیا گیا ہے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس کثیرًا فی ھٰذہ الفءۃ رجال الصدق والصفاء۔ فالاغراض ازیں گروہ صاحب صدق و صفا پیدا خواہد کرد پس گروہ میں بہت مرد پیدا کرے گا جو صاحب صدق و صفا ہوں گے۔ پس