فاتقوا اللّٰہ الذی الیہ الرجعٰی ۔ ولا تکونوا
پس بترسید ازاں خدا کہ سوئے او بازگشت است وہمچو کسانے نباشید
خدا تعالیٰ سے ڈرو کہ خدا تعالیٰ کی طرف ایک دن جانا ہے ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ
الی الطریق المتعارف المشھود۔ ویکفی للمضاھاۃ الاشتراک
سوئے عام قاعدۂ پیدائش ندرتے دارد و برائے مشابہت ایں قدر اشتراک کافی است
عام پیدائش کے قاعدہ سے عجیب ہے اور مشابہت کے لئے اسی قدر اشتراک کافی ہے۔
فی الندرۃ بھٰذا القدر عند اھل العقل والشعور۔ فان المشابھۃ
چراکہ مشابہت
کس لئے کہ مشابہت
لاتوجب الا لونًا من المناسبۃ۔ ولا تقتضی الا رائحۃً من
نہ مے خواہد مگر رنگے از مناسبت و بوئے
و مماثلت سوائے ایک رنگ کی مناسبت کے اور کچھ نہیں چاہتی ہے۔اور وہ اس جگہ
المماثلۃ۔ وانا اذا قلنا مثلًا ان ھٰذا الرجل اسدٌ بطریق المجاز
از مماثلت و آں اینجا حاصل است۔ وما چوں بگوئیم کہ مثلاً ایں مرد شیراست بطریق مجاز
حاصل ہے مثلاً جب ہم بطریق مجاز و استعارہ یہ کہیں کہ یہ مرد شیر ہے
والاستعارۃ۔ فلیس علینا من الواجب ان نثبت لہٗ کلما یوجد
واستعارہ پس دریں برما واجب نیست کہ ما ثابت کنیم کہ ہمہ آں اعضا
پس ہمیشہ یہ لازم وواجب نہیں ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ تمام اعضاء وصفات
فی الاسد من الذنب والزئر وھیءۃ الجلد وجمیع لوازم
وصفات کہ در شیر یافتہ مے شوند ہمچو دم و آواز و صورت جلد و جمیع لوازم درندگی در و
اس شیر کے اس مرد میں پائے جاتے ہیں چنانچہ دم و آواز اور بال اور کھال اور تمام درندگی کے لوازم بھی