ھٰذاوعد اللّٰہ وان وعد اللّٰہ لا یبدل ولا ینسٰی ۔
ایں وعدۂ خدا تعالیٰ بود و وعدۂ خدا تعالیٰ نہ قابل تبدیل و نہ لائق نسیان است۔
یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا اور یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ نہ قابل تبدیل اور نہ لائق سہو ہے۔
خارجٌ من العادۃ ولا ھو حریٌ بالتسلیم* ۔ فان الانسان قد
خارج از عادت است و نہ لائق است کہ قبول کردہ شود چراکہ انسان گا ہے
خارج از عادت ہے اور نہ لائق ہے کہ اس بات کو قبول کیا جائے کس لئے کہ انسان کبھی
یتولد من نطفۃ الامرأۃ وحدھا ولو علٰی سبیل الندرۃ ۔ ولیس
پیدا میگردد از نطفۂ زن فقط اگرچہ بہ سبیل نادر باشد وایں امر
عورت کے نطفہ سے بھی پیدا ہوجاتا ہے اگرچہ بات نادر ہو اور یہ امر
ھوبخارجٍ من قانون القدرۃ۔ بل لہٗ نظائر وقصصٌ فی کل قومٍ
خارج از قانون قدرت نیست بلکہ در ہر قوم نظیر ہائے ایں یافتہ می شوند
قانون قدرت سے بھی خارج نہیں ہے بلکہ ہر قوم میں اس کی نظیریں پائی جاتی ہیں
وقد ذکرھا الاطباء من اھل التجربۃ ۔ نعم نقبل ان
و طبیبان اہل تجربہ ذکر آں نظیر ہا کردہ اند ایں امر قبول مے کنیم کہ
اور اہل تجربہ طبیبوں نے ایسی نظیروں کا ذکر کیا ہے۔ ہاں ہم یہ بات قبول کر سکتے ہیں کہ
الحاشیۃ علی الحاشیۃ :۔ الم تر انّ اٰدم علیہ السلام ماکان لہ
آیا ندیدی کہ آدم علیہ السلام را نہ پدرے بود و نہ
آیا تم نے نہیں دیکھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا نہ کوئی باپ
ابوان فکون ھٰذا الامر من عادۃ اللّٰہ ثابت من ابتداء الزمان۔ منہ
مادرے۔ پس داخل عادت اللہ بو دن ایں امر از ابتدائے زمانہ ثابت است۔ منہ
تھا اور نہ ماں۔ پس یہ امر عادت اللہ میں داخل ہونا ابتدائے زمانہ سے ہی ثابت ہے۔ منہ