انّ عیسٰی قدجمع ھٰذہ الاربعۃ وکذالک
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایں ہر چہار صفت را در خود جمع کردہ بود و ہم چنیں
حضرت مسیح علیہ السلام یہ چاروں صفات اپنی ذات میں جمع رکھتے تھے اور اسی طرح
اراد اللّٰہ فی مسیح ھٰذہ الامۃ وقضٰی ۔ لیتم
ارادہ کرد، خدا تعالیٰ کہ ایں ہر چہار صفت در مسیح ایں امت نیز جمع باشند تا امر مماثلت
خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ یہ چاروں صفات اِس اُمت کے مسیح میں بھی جمع ہوں تاکہ امر مماثلت
امر المماثلۃ ولا یکون کقسمۃٍ ضیزٰی* ۔ وکان
بوجہ اتم حاصل گردد و ہمچو قسمتے نباشد کہ در او کمی و بیشی بود
بوجہ اتم حاصل ہوجائے اور ایسی نکمی تقسیم نہ ہو کہ اس میں کمی زیادتی کسی قسم کی رہ جائے۔ اور
ان قیل ان المسیح قد خلق من غیر ابٍ من یدالقدرۃ ۔ وھٰذا
اگر گفتہ شود کہ حضرت مسیح علیہ السلام بغیر پدر پیدا شدہ بود وایں امرے است فوق العادۃ
اگر کہا جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بے باپ پیدا ہوئے تھے اور یہ اک
امرٌ فوق العادۃ۔ فلایتم ھناک شان المماثلۃ۔ وقد وجب المضاھاۃ
پس شان مماثلت تمام نہ مے گردد و واجب است کہ باہم مشابہت
امر فوق العادت ہے۔ پس شان مماثلت پوری نہیں ہوتی ہے اور باہم مشابہت کا ہونا ضروری ہے
کما لایخفٰی علی القریحۃ الوقادۃ۔ قلنا ان خلق انسانٍ من
باشد چنانکہ بر طبائع سلیمہ مخفی نیست میگوئیم کہ پیدا کردن انسان
جو سلیم الطبع لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ انسان کا
غیر ابٍ داخلٌ فی عادۃ اللّٰہ القدیر الحکیم ۔ ولا نسلّم انہٗ
بغیر پدر داخل در عادت الٰہی است و قبول نمے کنیم کہ ایں
بے باپ پیدا کرنا عادت اللہ میں داخل ہے اور ہم اس کو قبول نہیں کرتے کہ یہ