وماکان لہٗ ابٌ من بنی اسراء یل الّا امہٗ ۔ وعیسیٰ علیہ السلام را از بنی اسرائیل ہیچ پدرے نہ بود مگر مادرے اور عیسیٰ علیہ السلام کا نبی اسرائیل میں سے سوائے ماں کے کوئی باپ نہ تھا۔ وکذالک خلقہ اللّٰہ من غیرابٍ و اومأ فیہ و ہم چنیں خدا تعالیٰ بغیر پدر اورا پیدا کرد و دریں اشارت کرد اس طرح پر خدا نے ان کو بے باپ پیدا کیا۔ اور اس بے باپ پیدا کرنے میں ایک اشارہ ماقیل۔ وعَذّبوھا باقاویل۔ فکان ھٰذان الامران علمًا لساعۃ نقل النبوۃ آنچہ گفتہ شد۔ وبہ گونا گوں سخنہا اورا ایذا داد ند۔ پس ایں ہر دو امر دلیلے بود بر ساعت نقل نبوت از جو کہا گیا۔ اور طرح طرح کی باتوں سے اس کو دکھ پہنچایا گیا۔ پس یہ دونوں امر نقل نبوت کی گھڑی پر ایک دلیل تھے و علمًا لتعذیب ھٰذہ الفرقۃ۔ فاصاب الیھود ذلۃ باخراجہم من ھٰذا البستان۔ خاندان یہود۔ ودلیلے بود برعذاب دادن ایں فرقہ را۔ پس یہود را دو ذلت رسید۔ یکے آنکہ از باغ نبوت اخراج ایشاں اور نیز اس بات پر کہ اس فرقہ کو عذاب پہنچایا جائیگا۔ پس یہود کو دو ذلتیں پہنچیں۔ ایک یہ کہ نبوت کے باغ سے و نقل النبوۃ الٰی بنی اسماعیل غضبًا من اللّٰہ الدیان۔ ثم اصابھم ذلۃ اخریٰ کردند۔ ونبوت در بنی اسماعیل منتقل فرمودند۔ وذلت دوم از دست بادشاہاں خارج کر دیئے گئے اور نبوت بنی اسماعیل میں منتقل ہوگئی اور دوسری ذلت اور عذاب بادشاہوں وقارعۃ من ملوک الزمان۔ بل من کل ملک الٰی ھٰذا الاوان۔ زمانہ اوشاں را رسید بلکہ از دست ہر بادشاہ تا ایں وقت ذلت ہادید ند کے ذریعہ سے ان کو پہنچا بلکہ ہر ایک بادشاہ کے ذریعہ سے اس وقت تک وان فیھا لاٰ یۃً لاھل العلم والعرفان۔ منہ و دریں نشانے است برائے اہل علم و عارفان۔ منہ اور اس میں اہل علم اور عارفوں کیلئے نشان ہیں۔ منہ