حتّٰی طال علیھم العمر وترکوا التقوٰی ۔ فلما تا آنکہ زمانہ دراز بر ایشاں گذشت و تقویٰ را ترک کردند پس ہر گاہ یہاں تک کہ زمانہ دراز ان پرگذرا اور انہوں نے تقویٰ کو ترک کیا پس جس وقت انقضٰی علیھم ثلٰث ماءۃٍ بعد الالف من کہ یک ہزار و سہ صد سال کہ تیرہ سو برس موسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے ان پر گذرے یومٍ بعث فیہ الکلیم الذی کلّمہ اللّٰہ از روز بعث موسیٰ علیہ السلام بر ایشاں گذشت آں موسیٰ کہ خدا ہمکلام وہی موسیٰ کہ جس سے خدا ہمکلام ہوا تھا اور جس کو و اجتبٰی ۔ بعث اللّٰہ رسولہٗ عیسی ابن مریم اوشدہ بودو او را برگزیدہ بود۔ خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ ابن مریم را در بنی اسرائیل مبعوث فرمود برگزیدہ کیا تھا۔ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا فیھم وجعلہٗ خاتم انبیاء ھم وعلمًا لساعۃ و او را خاتم انبیاء بنی اسرائیل کرد وبرائے ساعت نقل نبوت و عذاب اور ان کو بنی اسرائیل کا خاتم الانبیاء بنایا اور نبوت کی انتقال کی ساعت کے لئے نقل النبوۃ مع العذاب ط فانذرھم وخشّٰی* ۔ او را دلیلے گردانید و بدیں طور یہود را بترسانید ان کو دلیل ٹھہرایا اور اس طور سے یہود کو ڈرایا ان مریم ولدت ابنًا ما کان من بنی اسرائیل۔ ثم قیل فیھا بہ تحقیق مریم پسرے را بزاد کہ از بنی اسرائیل نبود باز در حق او گفتہ شد مریم ایک لڑکا جنی جو بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا۔ پھر اس کے حق میں کہا گیا