وکفاک ھٰذان الشاھدان ان کنت تسمع و و ترا ایں ہر دو گواہ کفایت مے کنند اگر مے شنوی و اور تجھے یہ دونوں گواہ کافی ہیں اگر تو دیکھتا اور سنتا ترٰی۔ فحاصل الکلام ان سلسلۃ الخلفاء مے بینی پس حاصل کلام این است کہ سلسلہ خلفاء محمدیہ ہے پس حاصل کلام یہ ہے کہ محمدی خلیفوں کا سلسلہ المحمدیۃ قد وقعت کسلسلۃ خلفاء موسٰی۔ ہمچو سلسلۂ خلفاء موسویہ واقع شدہ است موسوی خلیفوں کے سلسلہ کی مانند واقع ہے۔ وکذالک کان الوعد فی القراٰن من رب و ہم چنیں از خدائے آسمان بلند در قرآن وعدہ بود اور اسی طرح بلند آسمان کے خدا کی طرف سے قرآن شریف میں وعدہ تھا السمٰوات العلٰی ۔ فان اللّٰہ قد اذ خلف قومًا چراکہ خدائے تعالیٰ کس لئے کہ خدا تعالیٰ نے من قبل من بنی اسراء یل واصطفٰی ۔ واکرم ازیں پیشتر در بنی اسرائیل سلسلہ خلفاء قائم کرد و اوشاں را برائے اس سے پہلے بنی اسرائیل میں خلیفوں کا سلسلہ قائم کیا اور ان کو خلافت کے لئے قبول کیا بنی اسراء یل وجعل فیھم النبوۃ ومَھّلھم خلافت برگزید۔ وبنی اسرائیل را عزت داد و درایشاں نبوت نہاد۔ و اوشاں را مہلتے داد اور بنی اسرائیل کو عزت دی اور ان میں نبوت قائم کی اور ان کولمبی مہلت دی